تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 35 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 35

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۵ سورة ال عمران امَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا (الأحزاب: ۵۷) تیسرا: موہبت الہی۔(حضرت اقدس کی ایک تقریر اور مسئلہ وحدت الوجود پر ایک خط صفحہ ۲۲ مرتبہ حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو خدا تعالیٰ کی محبت کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے بغیر اس کے یہ مقام مل ہی نہیں سکتا۔الحکم جلد نمبر ۳ ،مورخہ ۲۴ /جنوری ۱۹۰۷ صفحه ۱۵) إن كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونی کہہ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر ایک طبقہ کے انسان کو مخاطب کیا ہے کہ ہر ایک قسم کا سبق مجھ سے لو اور ظاہر ہے کہ جب تک ایک اسوہ سامنے نہ ہو، انسان عمل درآمد سے قاصر رہتا ہے۔ہر ایک قسم کے کمال کے حصول کے لئے نمونہ کی ضرورت ہے۔انسانی طبائع اسی قسم کی واقع ہوئی ہیں کہ وہ صرف قول سے مؤثر نہیں ہوتیں جب تک اس کے ساتھ فعل نہ ہو۔اگر صرف قول ہو تو صد با اعتراض لوگ کرتے ہیں۔دین کی باتوں کو سن کر کہا کرتے ہیں کہ یہ سب باتیں کہنے کی ہیں ، کون ان کو بجالا سکتا ہے؟ یونہی بنا چھوڑی ہیں، اور ان اعتراضوں کا رد نہیں ہوسکتا۔جب تک ایک انسان عمل کر کے دکھانے والا نہ ہو۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخه ۱۶ /اگست ۱۹۰۴ء صفحه ۴) خدا کی ذات میں بخل نہیں اور نہ انبیاء اس لئے آتے ہیں کہ ان کی پوجا کی جاوے بلکہ اس لئے ا کہ لوگوں کو تعلیم دیں کہ ہماری راہ اختیار کرنے والے ہمارے ظل کے نیچے آجاویں گے جیسے فرمایا: ان ود كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ یعنی میری پیروی میں تم خدا کے محبوب بن جاؤ گے۔آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) پر محبوب ہونے کی بدولت یہ سب اکرام ہوئے مگر جب کوئی اور شخص محبوب بنے گا تو اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا ، اگر اسلام ایسا مذہب ہے تو سخت بیزاری ہے ایسے اسلام سے۔مگر ہرگز اسلام ایسامذہب نہیں آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم ) تو وہ مائدہ لائے ہیں کہ جو چاہے اس کو حاصل کرے، وہ نہ تو دنیا کی دولت لائے اور نہ مہاجن بن کر آئے تھے ، وہ تو خدا کی دولت لائے تھے اور خود اس کے قاسم تھے پس اگر وہ مال دینا نہیں تھا تو کیا وہ گٹھڑی واپس لے گئے؟ الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹۹۳۸، مورخہ ۱۰ تا ۱۷ نومبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۷) کل انبیاء، اولیاء، اتقیا اور صالحین کا ایک یہ مجموعی مسئلہ ہے کہ پاک کرنا خدا کا کام ہے اور خدا کے اس فضل کے جذب کے واسطے اتباع نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم از بس ضروری اور لازمی ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے: قُلْ إِن كُنتُم تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ - سورج دنیا میں موجود ہے مگر چشم بینا بھی تو چاہیے۔