تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 32 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 32

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲ سورة ال عمران جو جس سے پیار کرتا ہے تو اُس سے کلام بغیر نہیں رہ سکتا اسی طرح خدا جس سے پیار کرتا ہے تو اس سے بلا مکالمہ نہیں رہتا آنحضرت کی اتباع سے جب انسان کو خدا پیار کرنے لگتا ہے تو اس سے کلام کرتا ہے غیب کی خبریں اُس پر ظاہر کرتا ہے اس کا نام نبوت ہے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۵، مورخہ یکم مئی ۱۹۰۳ صفحه ۱۱۳) اللہ تعالیٰ کے خوش کرنے کا ایک یہی طریق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی فرمانبرداری کی جاوے۔دیکھا جاتا ہے کہ لوگ طرح طرح کی رسومات میں گرفتار ہیں۔کوئی مرجاتا ہے تو قسم قسم کی بدعات اور رسومات کی جاتی ہیں حالانکہ چاہئے کہ مُردہ کے حق میں دعا کریں۔رسومات کی بجا آوری میں آنحضرت صلعم کی صرف مخالفت ہی نہیں ہے بلکہ ان کی ہتک بھی کی جاتی ہے اور وہ اس طرح سے کہ گویا آنحضرت صلعم کے کلام کو کافی نہیں سمجھا جاتا اگر کافی خیال کرتے تو اپنی طرف سے رسومات کے گھٹڑنے کی کیوں ضرورت پڑتی ؟ البدر جلد ۲ نمبر ۱۹ مورخه ۲۹ رمئی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۴۵) یا درکھنا چاہئے کہ انبیاء ورسل اور آئمہ کے آنے سے کیا غرض ہوتی ہے؟ وہ دنیا میں اس لئے نہیں آتے کہ ان کو اپنی پوجا کرانی ہوتی ہے وہ تو ایک خدا کی عبادت قائم کرنا چاہتے ہیں اور اسی مطلب کے لئے آتے ہیں اور اس واسطے کہ لوگ اُن کے کامل نمونہ پر عمل کریں اور اُن جیسے بننے کی کوشش کریں اور ایسی اتباع کریں کہ گویا وہی ہو جائیں۔مگر افسوس ہے کہ بعض لوگ ان کے آنے کے اصل مقصد کو چھوڑ دیتے ہیں اور ان کو خدا سمجھ لیتے ہیں اس سے وہ آئمہ اور رسل خوش نہیں ہو سکتے کہ لوگ ان کی اس قدر عزت کرتے ہیں کبھی نہیں ! وہ اس کو کوئی خوشی کا باعث قرار نہیں دیتے ، ان کی اصل خوشی اسی میں ہوتی ہے کہ لوگ اُن کی اتباع کریں اور جو تعلیم وہ پیش کرتے ہیں کہ بچے خدا کی عبادت کرو اور توحید پر قائم ہو جاؤ اس پر قائم ہوں۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم ہوا: قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحببكُمُ الله یعنی اے رسول! ان کو کہہ دو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ سے پیار کرتے ہو تو میری اتباع کرو۔اس اتباع کا یہ نتیجہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ تم سے پیار کرے گا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے محبوب بننے کا طریق یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی اتباع کی جاوے۔پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام اور ایسا ہی اور جو خدا تعالیٰ کے راست باز اور صادق بندے ہوتے ہیں وہ دنیا میں ایک نمونہ ہو کر آتے ہیں جو شخص اس نمونہ کے موافق چلنے کی کوشش نہیں کرتا لیکن اُن کو سجدہ کرنے اور حاجت روامانے کو تیار ہو جاتا ہے وہ بھی خدا تعالیٰ ود