تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 460 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 460

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶۰ سورة النساء يكُونَ مَقَامَ آدَمَ أَرْفَعَ مِنْهُ وَأَعْظَم حضرت آدم کا مقام حضرت مسیح سے زیادہ بلند ہو اور پہلا وَيَكُونُ ادَمَ أَوَّلَ أَبْنَاءَ رَبِّ الْعَالَمِينَ، فَإِنَّ بیٹا خدا تعالیٰ کا حضرت آدم ہی ہو کیونکہ حضرت آدم کی فِي شَأْنٍ آدَمَ بَيَانُ أَكْبَرُ مِنْ شَأْنِ عِیسَی شان میں حضرت عیسی کی نسبت زیادہ تعریف بیان کی گئی فَتَفَكَّرْ فِي آيَةٍ فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ وَ تَدَبر تحولی ہے سو عقلمندوں کی طرح لفظ فَقَعُوا لَهُ سُجِدِین میں غور کر اللهى، وَفَكّر في لفظ خَلَقْتُ بیدی ولفظ اور پھر اس لفظ میں غور کر جو خَلَقْتُ بیدی اور سَوَيْتُه سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن روحى وألفاظ الخرى اور نَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِی ہے اور دوسرے لفظوں کو بھی لِيَظْهَر عَلَيْكَ جَلَالَهُ أدَمَ وَشَأْلُهُ الْأَغلى سوچ تا کہ تیرے پر حضرت آدم کی شان اعلیٰ ظاہر ہو فَإِنَّ مَنطَوْقَ الْآيَةِ يَدُلُّ عَلى أَن رُوحَ الله کیونکہ منطوق آیت کا دلالت کرتا ہے کہ روح اللہ آدم میں نَزَلَ فِي آدَمَ بِنُزُولِ أَجْلى، حَتَّى جَعَلَهُ مَسْجُوْدَ اُترا تھا اور وہ اتر نا بہت روشن تھا یہاں تک کہ آدم ملائکہ کا الْمَلَائِكَةِ وَمَظْهَرَ تَجَيَاتٍ وَأَقْرَبَ إِلَى الله سجدہ گاہ ٹھہرا اور تجلیات عظمی کا مظہر بنا اور خدائے غنی سے الأَغْنى وَأَعْلَمَ وَأَفْضَلَ مِنَ الْمَلَائِكَةِ بہت قریب ہوا اور افضل تھہرا اور خدا تعالیٰ کا خلیفہ بنا مگروہ أَجْمَعِينَ، وَخَلِيفَةَ اللهِ عَلَى الْأَرْضِينَ وَأَمَّا آیت جو حضرت عیسی کی شان میں نازل ہوئی ہے سو وہ اس الْآيَةُ الَّتِى نَزَلَتْ فِي شَأْنٍ عِيسَى فَمَا تَجْعَلُه کو کچھ بہت اونچا نہیں بناتی اور نہ زیادہ پاک اور صاف أَرْفَعَ وَأَعْلى وَلَا أَصْفَى وَأَزْكَى بَلْ يَعْبُتُ بناتی ہے بلکہ اس سے تو صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ مِنْهُ أَنَّ عِيسَى رُوحُ مِنَ الله وَعَبْدُهُ الْعَاجِز حضرت عیسی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک روح ہیں جیسا كَأَشْيَاءَ أُخْرَى وَمِنَ الْمَخْلُوقِيْنَ مَا سَجَدَه کہ دوسری چیزیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور ثابت إِبْلِيسُ بَلْ أَمَرَهُ أَنْ يَسْجُدَ لَهُ وَمَعَ ذلك ہوتا ہے کہ وہ مخلوق ہے شیطان نے اس کو سجدہ نہ کیا بلکہ جَرَّبَهُ ذُلِكَ الْخَبِيتُ، وَسَجَدَ لِأدَمَ الْمَلَائِكَةُ چاہا کہ وہ شیطان کو سجدہ کرے۔اور اس کا امتحان لیا اور كُلُّهُمْ أَجْمَعِينَ وَإِنَّ آدَمَ أَنْبَأَ الْمَلَائِكَةَ آدم کو تمام فرشتوں نے سجدہ کیا اور آدم نے فرشتوں کو بِأَسْمَاءِ سَائِرِ الْأَشْيَاء ، فَقَبَتَ أَنَّهُ أَعْلَمُ تمام چیزوں کے نام بتلائے پس ثابت ہوا کہ وہ ان سے وَسِرة مُحيط عَلَى الْأَرْضِ وَالسَّمَاءِ ، ولکن زیادہ عالم تھا اور اُس کا سر تمام کائنات پر محیط تھا مگر عِيْسَى أَقرَّ بِأَنَّهُ لَا يَعْلَمُ السَّاعَةُ وَأَشَارَ إلى حضرت عیسی نے تو اقرار کیا کہ اس کو قیامت کا علم نہیں الحجر : ٣٠