تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 447

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۷ سورة النساء راویوں کے قابل جرح یا مرسل اور منقطع الاسناد ہیں وہ بالکل پایہ اعتبار سے خالی اور بے اعتبار محض ہیں؟ اور کیا وہ محدثین کے نزدیک موضوعات کے برابر سمجھی گئی ہیں؟ ناظرین متوجہ ہو کر سنواب میں اس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہوں کہ اگر فرض کے طور پر ابن عباس اور عکرمہ اور مجاہد اور ضحاک وغیرہ کے معنے جو مخالف مولوی صاحب کے معنوں کے ہیں غلط ٹھہرائے جاویں اور قبول کیا جائے کہ یہ تمام اکابر اور بزرگ مولوی صاحب کے اجماعی قاعدہ نحو سے عمداً یا سہو باہر چلے گئے تو پھر بھی مولوی صاحب کے معنے قطعیۃ الدلالت نہیں ٹھہر سکتے۔کیوں نہیں ٹھہر سکتے ؟ اس کی وجوہ ذیل میں لکھتا ہوں۔(۱) اول یہ کہ مولوی صاحب کے ان معنوں میں کئی امور ہنوز قابل بحث ہیں جن کا وہ یقینی طور پر فیصلہ نہیں کر سکے اور نہ ان کا ایک ہی معنوں پر قطعیۃ الدلالت ہونا بپایہ ثبوت پہنچا چکے ہیں۔از انجملہ ایک یہ کہ اہل الکتاب کا لفظ اکثر قرآن کریم میں موجودہ اہل کتاب کیلئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں موجود تھے بیان فرمایا گیا ہے اور ہر ایک ایسی آیت کا جس میں اہل کتاب کا ذکر ہے وہی مصداق اور شان نزول قرار دئیے گئے ہیں۔پھر مولوی صاحب کے پاس باوجود اس دوسرے معنے ابن عباس اور عکرمہ کی کونسی قطعی دلیل اس بات پر ہے کہ اس ذکر اہل کتاب سے وہ لوگ قطعا باہر رکھے گئے ہیں اور کون سی حجت شرعی یقینی قطعیۃ الدلالت اس بات پر ہے کہ اہل کتاب سے مراد اس زمانہ نا معلوم کے اہل کتاب ہیں جس میں تمام وہ لوگ حضرت عیسی پر ایمان لے آئیں گے۔از انجملہ ایک یہ کہ مولوی صاحب نے تعیین مرجع ليؤمنن پہ میں کوئی قطعی ثبوت پیش نہیں کیا۔کیونکہ تفسیر معالم التنزیل وغیرہ تفاسیر معتبرہ میں حضرت عکرمہ وغیرہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے یہ بھی روایت ہے کہ ضمیر پہ کی جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پھرتی ہے اور یہ روایت قوی ہے کیونکہ مجرد مسیح این مریم پر ایمان لانا موجب نجات نہیں ٹھہر سکتا۔ہاں خاتم الانبیاء پر ایمان لانا بلاشبہ موجب نجات ہے کیونکہ وہ ایمان تمام نبیوں پر ایمان لانے کو مستلزم ہے۔پس اگر حضرت عیسی کو بہ کے ضمیر کا مرجع ٹھہرایا جائے تو اس کا فساد ظاہر ہے۔آپ جانتے ہیں کہ اگر کوئی اہل کتاب شرک سے تو بہ کر کے صرف حضرت عیسی کی رسالت اور عبدیت کا قائل ہو۔لیکن ساتھ اس کے ہمارے سید و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت سے قطعا منکر ہو تو کیا وہ اسی ایمان سے نجات پاسکتا ہے ہر گز نہیں۔پھر یہ ضمیر پہ کی حضرت عیسی کی طرف آپ کے معنوں کے رو سے کیونکر پھر سکتی ہے۔اگر یہ تثنیہ کی ضمیر ہوتی تو ہم یہ خیال کر لیتے اس میں حضرت عیسی بھی