تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 446 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 446

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۴۶ سورة النساء موجود ہے یعنی قبل موتهم۔فرض کرو کہ وہ قراءت بقول حضرت مولوی صاحب ایک ضعیف حدیث ہے مگر آخر حدیث تو ہے۔یہ تو ثابت نہیں ہوا کہ وہ کسی مفتری کا افتر ا ہے پس وہ کیا ابن عباس کے معنوں کو ترجیح دینے کیلئے کچھ بھی اثر نہیں ڈالتی یہ کس قسم کا تحکم ہے کہ ایسا خیال کیا جائے کہ ابن عباس کے یہ معنے نحوی قاعدہ کے مخالف ہیں اور قراءت قبل موتهم کسی راوی کا افترا ہے۔ابن عباس اور عکرمہ پر یہ الزام دینا کہ وہ محوی قاعدہ سے بے خبر تھے میری سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا مولوی صاحب یا کسی اور کا حق ہے کہ ان بزرگوں پر ایسا الزام رکھ سکے جن کے گھر سے ہی نخونکلی ہے۔ظاہر ہے کہ مجھ کو ان کے محاورات اور ان کے فہم کی تابع ٹھہرانا چاہئے نہ کہ ان کی بول چال اور ان کے فہم کا محک اپنی خود تر اشید و چو کو قراردیا جائے۔اب اگر مولوی صاحب اپنی ضد کو کسی حالت میں چھوڑنا نہیں چاہتے اور ابن عباس اور عکرمہ کو ٹھو کے اجتماعی قاعدہ سے بے خبر ٹھہراتے ہیں اور قراءت ابی بن کعب کو بھی جو قبل موتھ ہے بلکلی مردود اور تحقیق الافتر اخیال کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ صرف ان کے دعوے سے ہی یہ ان کا بہتان قابل تسلیم نہیں ٹھہر سکتا بلکہ اگر وہ اپنے معنوں کو قطعیۃ الدلالت بنانا چاہتے ہیں تو ان پر فرض ہے کہ ان دونوں باتوں کا قطعی طور پر پہلے فیصلہ کر لیں۔کیونکہ جب تک ابن عباس اور عکرمہ کے مخالفانہ معنوں میں احتمال صحت باقی ہے اور ایسا ہی گو حدیث قراءت شاذه بقول مولوی صاحب ضعیف ہے مگر احتمال صحت رکھتی ہے تب تک مولوی صاحب کے معنے باوجود قائم ہونے ان تمام احتمالات کے کیو نکر قطعی ٹھہر سکتے ہیں۔ناظرین آپ لوگ خود سوچ لیں کہ قطعی معنے تو انہی معنوں کو کہا جاتا ہے جن کی دوسری وجوہ سرے سے پیدا نہ ہوں یا پیدا تو ہوں لیکن قطعیت کا مدعی دلائل شافیہ سے ان تمام مخالف معنے کو توڑ دے۔لیکن مولوی صاحب نے اب تک ابن عباس اور عکرمہ کے معنوں اور قبل موتہ کی قراءت کو توڑ کر نہیں دکھلایا ان کا توڑ نا تو صرف ان دو باتوں میں محدود تھا اول یہ کہ مولوی صاحب صاف بیان سے اس بات کو ثابت کر دیتے کہ ابن عباس اور عکرمہ ان کے اجماعی قاعدہ نحو سے بکلی بے خبر اور غافل تھے اور انہوں نے سخت غلطی کی کہ اپنے بیان کے وقت نحو کے قواعد کو نظر انداز کر دیا۔دوسرے مولوی صاحب پر یہ بھی فرض تھا کہ قراءت شاذه قَبْلَ مَوْتِهِمْ کے راوی کا صریح افترا ثابت کرتے اور یہ ثابت کر کے دکھلاتے کہ یہ حدیث موضوعات میں سے ہے۔مجرد ضعف حدیث کا بیان کرنا اس کو بکلی اثر سے روک نہیں سکتا۔امام بزرگ حضرت ابوحنیفہ فخر الائمہ سے مروی ہے کہ میں ایک ضعیف حدیث کے ساتھ بھی قیاس کو چھوڑ دیتا ہوں۔اب کیا جس قدر حدیثیں صحاح ستہ میں باعث بعض