تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 439 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 439

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۹ سورة النساء معنی مراد لیوے آپ کو سوچنا چاہئے کہ ایسے ایمان سے فائدہ ہی کیا ہے اور مسیح کی خصوصیت کیا ٹھہری ایسا تو ہر ایک نبی کے زمانہ میں ہوا کرتا ہے کہ بد بخت لوگ زبان سے اس کے منکر ہوتے ہیں اور دل سے یقین کر جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔آیت کے یہ معنی ہیں کہ مسیح کی موت سے پہلے ایک زمانہ ایسا آوے گا کہ اس زمانہ کے اہل کتاب ان پر ایمان لے آویں گے اور اس زمانہ سے پہلے کفر پر مرنے والے کفر پر مریں گے۔۔۔۔ان کا لفظ تو ایسا کامل حصر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کہ اگر ایک فرد بھی باہر رہ جائے تو یہ لفظ بیکار اور غیر مؤثر ٹھہرتا ہے۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۶،۱۶۵) میں ثابت کرتا ہوں کہ اگر فی الحقیقت نحویوں کا یہی مذہب ہے کہ نون ثقیلہ سے مضارع خالص مستقبل کے معنوں میں آجاتا ہے اور کبھی اور کسی مقام اور کسی صورت میں اس کے برخلاف نہیں ہوتا تو انہوں نے سخت غلطی کی ہے۔قرآن کریم ان کی غلطی ظاہر کر رہا ہے اور اکابر صحابہ اس پر شہادت دے رہے ہیں۔حضرت انسانوں کی اور کوششوں کی طرح نحویوں کی کوششیں بھی خطا سے خالی نہیں۔آپ حدیث اور قرآن کو چھوڑ کر کس جھگڑے میں پڑ گئے۔اور اس خیال خام کی نحوست سے آپ کو تمام اکابر کی نسبت بدظنی کرنی پڑی کہ وہ سب تفسیر آیت ليُؤْمِنَنَّ بِہ میں غلطی کرتے رہے۔ابھی میں انشاء اللہ القدیر آپ پر ثابت کروں گا کہ آیت لیؤْمِلَن پہ آپ کے معنوں پر اس صورت میں قطعیۃ الدلالت ٹھہر سکتی ہے کہ ان سب بزرگوں کی قطعیۃ الجہالت ہونے پر فتولی لکھا جائے اور نعوذ باللہ نبی معصوم کو بھی ان میں داخل کر دیا جائے ورنہ آپ کبھی اور کسی صورت میں قطعیت کا فائدہ حاصل نہیں کر سکتے اور کوئی تقوی شعار علماء میں سے اس قطعیت کے دعوے میں آپ کے ساتھ شریک نہیں ہوگا اور کیوں کر شریک ہو۔شریک تو تب ہو کہ بہت سے بزرگوں اور صحابہ کو جاہل قرار دیوے اور نبی مسلم پر بھی اعتراض کرے۔سُبحانه هذا بہتان عظیم - اب میں آپ پر واضح کرنا چاہتا ہوں کہ کیا اکابر مفسرین نے اس آیت کو حضرت عیسی کے نزول کے لئے قطعية الدلالت قرار دیا ہے یا کچھ اور ہی معنے لکھے ہیں۔سو واضح ہو کہ کشاف صفحہ ۱۹۹ میں لَيُؤْمِنَنَّ بِہ کی آیت کے نیچے یہ تفسیر ہے جُمْلَةٌ قَسْبِيَّةٌ وَاقِعَةٌ صِفَةٌ لِمَوْصُوفٍ فَخَذُوْفٍ تَقْدِيرُهُ وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَب اَحَدٌ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعِيسَى وَبِأَنَّهُ عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ يَعْنِي إِذَا عَايَنَ قَبْلَ أَن تَزْهَقَ رُوحُهُ حِيْنَ لا يَنفَعُهُ إيْمَانُهُ لِانْقِطَاعِ وَقْتِ التَّكْلِيفِ وَعَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْ شَبَ قَالَ لِي الْحَجَاجُ ايَةٌ مَّا قَرَيْتُهَا إِلَّا تُخَالِجُ فِي نَفْسِى شَيْءٍ مِّنْهَا يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ إِنِّي أَضْرِبُ عُنُقَ