تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 438
۴۳۸ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء صریحہ ہے اس واسطے کہ دوسری قراءت میں یوں آیا ہے جو بیضاوی وغیرہ میں لکھی ہیں الاليُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهم جس کا ترجمہ یہ ہے کہ اہل کتاب اپنی موت سے پہلے مسیح ابن مریم پر ایمان لے آویں گے اب دیکھئے کہ قبل موتہ کی ضمیر جو آپ حضرت مسیح کی طرف پھیرتے تھے دوسری قراءت سے یہ معلوم ہوا کہ وہ حضرت مسیح کی طرف نہیں بلکہ اہل کتاب فرقہ کی طرف پھرتی ہے۔آپ جانتے ہیں کہ قراءت غیر متواترہ بھی حکم حدیث احاد کا رکھتی ہے اور آیات کے معنوں کے وقت ایسے معنے زیادہ تر قبول کے لائق ہیں جو دوسری قراءت کے مخالف نہ ہوں۔اب آپ ہی انصاف فرمائیے کہ یہ آیت جس کی دوسری قراءت آپ کے خیال کو بکلی باطل ٹھہرا رہی ہے۔کیوں کر قطعی الدلالہ پھہر سکتی ہے۔ماسوا اس کے۔۔۔۔۔ہر ایک جگہ اور ہر ایک مقام میں نون ثقیلہ کے ملانے سے مضارع استقبال نہیں بن سکتا۔قرآن کریم کے لئے قرآن کریم کی نظیریں کافی ہیں اگر چہ یہ سچ ہے کہ بعض جگہ قرآن کریم کے مضارعات پر جب نون ثقیلہ ملا ہے تو وہ استقبال کے معنوں پر مستعمل ہوئے ہیں۔لیکن بعض جگہ ایسی بھی ہیں کہ حال کے معنے قائم رہے ہیں یا حال اور استقبال بلکہ ماضی بھی اشترا کی طور پر ایک سلسلہ متصلہ ممتد ہ کی طرح مراد لئے گئے ہیں۔یعنی ایسا سلسلہ جو حال یا ماضی سے شروع ہوا اور استقبال کی انتہا تک بلا انقطاع برابر چلا گیا۔الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۲) فرض کے طور پر اگر آیت کے یہ معنی کئے جائیں کہ حضرت عیسی کے نزول کے وقت جس قدر اہل کتاب ہوں گے سب مسلمان ہو جائیں گے جیسا کہ ابو مالک سے آپ نے روایت کیا ہے تو مجھے مہربانی فرما کر سمجھا دیں کہ یہ معنے کیوں کر درست ٹھہر سکتے ہیں۔آپ تسلیم کر چکے ہیں کہ میچ کے دم سے اس کے نزول کے بعد ہزار ہا لوگ کفر کی حالت میں مریں گے۔اب اگر آپ ان کفار کو جو کفر پر مر گئے مومن ٹھہراتے ہیں یا اس جگہ ایمان سے مراد یقین رکھتے ہیں تو اس دعوے پر آپ کے پاس دلیل کیا ہے۔حدیث میں تو صرف کفر پر مرنا ان کا لکھا ہے یہ آپ نے کہاں سے اور کس جگہ سے نکال لیا ہے کہ کفر پر تو مریں گے مگر ان کو حضرت عیسیٰ کی رسالت پر یقین ہوگا اور کس نص قرآن یا حدیث سے آپ کو معلوم ہوا کہ اس جگہ ایمان سے مراد حقیقی ایمان نہیں بلکہ یقین مراد ہے ظاہر لفظ ایمان کا حقیقی ایمان پر دلالت کرتا ہے اور صرف عن الظاہر کے لئے کوئی قرینہ آپ کے پاس چاہئے۔جب کہ لفظ لفظ آیت میں یہ شبہات ہیں تو پھر آیت قطعیۃ الدلالت کیوں کر ہوئی اگر آپ لیؤمنن سے بغیر کسی قرینہ کے مجازی ایمان مراد لیں گے تو آپ کے مخالف کا حق ہوگا کہ وہ حقیقی