تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 430

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۳۰ سورة النساء اپنے رب کی طرف واپس چلی آوہ تجھ سے راضی اور تو اُس سے راضی۔اور میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میرے بہشت میں داخل ہو جا۔اور یہی یہودیوں کا عقیدہ تھا کہ مومن کی رُوح کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہوتا ہے اور بے دین اور کافر کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوتا اور وہ نعوذ باللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کافر اور بے دین سمجھتے تھے کہ اس شخص نے خدا پر افتراء کیا ہے اور یہ سچا نبی نہیں ہے۔اور اگر سچا ہوتا تو اس کے آنے سے پہلے الیاس نبی دوبارہ دنیا میں آتا۔اسی لئے وہ لوگ یہی عقیدہ رکھتے تھے اور اب تک رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی کی رُوح مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف نہیں گئی بلکہ نعوذ باللہ شیطان کی طرف گئی۔اور خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہود کو جھوٹا ٹھہرایا اور ساتھ ہی عیسائیوں کو بھی دروغ گو قرار دیا۔یہود نے حضرت عیسی علیہ السلام پر بڑے بڑے افتراء کئے ہیں۔ایک جگہ طالمود میں جو یہودیوں کی حدیثوں کی کتاب ہے لکھا ہے کہ یسوع کی لاش کو جب دفن کیا گیا تو ایک باغبان نے جس کا نام یہودا اسکر یوٹی تھا لاش کو قبر سے نکال کر ایک جگہ پانی کے روکنے کے واسطے بطور بندھ کے رکھ دیا۔یسوع کے شاگردوں نے جب قبر کو خالی پایا تو شور مچادیا کہ وہ مع جسم آسمان پر چلا گیا تب وہ لاش ملکہ میلینیا کے رو بروسب کو دکھائی گئی اور یسوع کے شاگر دسخت شرمندہ ہوئے (لعنة اللہ علی الکاذبین) دیکھو جیوئش انسائیکلو پیڈ یا صفحہ ۱۷۲ جلد نمبرے۔یہ انسائیکلو پیڈیا یہودیوں کی ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پیم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۳۸تا۳۴۲ حاشیه ) اگر خدا تعالیٰ کی ان آیات میں یعنی بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مع جسم عصری دوسرے یا چوتھے آسمان پر پہنچائے گئے تھے تو ہمیں کوئی بتلائے کہ یہودیوں کے اس اعتراض کا کن آیات میں جواب سے جو وہ کہتے ہیں جو مومنوں کی طرح حضرت عیسی کا رفع روحانی خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوا۔یہ تو نعوذ باللہ قرآن شریف کی ہتک ہے کہ اعتراض تو یہودیوں کا کوئی اور تھا اور جواب کوئی اور دیا گیا۔گویا خدا تعالیٰ نے یہودیوں کا منشاء نہیں سمجھا۔یہودی تو اس بارے میں حضرت عیسی سے کوئی خصوصیت کا معجزہ نہیں چاہتے تھے۔ان کا تو یہی اعتراض تھا کہ عام مومنوں کی طرح اُن کا رفع نہیں ہوا۔اور ان کا جواب تو صرف ان الفاظ سے دینا چاہیئے تھا کہ ان کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف ہو گیا ہے۔پس اگر ممدوحہ بالا آیت کا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ آسمان پر بٹھانے کا مطلب ہے تو یہ یہودیوں کے اعتراض کا جواب نہیں ہے۔قرآن شریف کی نسبت یہ خیال کہ سوال دیگر اور جواب دیگر ایسا خیال تو کفر تک پہنچ جاتا ہے جب کہ قرآن شریف کا یہ بھی منصب ہے کہ یہود کی اُن غلط تہمتوں کو دور کرے جو حضرت عیسی پر انہوں نے لگائی