تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 427

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۷ سورة النساء إِلَى الْمَوْلَى وَمَقَامَاتِهِمْ مَعَ أَنَّهُ كَانَ فِي رَبقَةِ حضرت مسیح علیہ السلام بقید حیات ہونے کے باوجود الحياة؟ الهدی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۶۲ تا ۳۶۴) وفات یافتہ لوگوں اور ان کے مقامات تک کیسے پہنچے۔(ترجمه از مرتب) یہود کا جھگڑا تو صرف رفع روحانی کے بارہ میں تھا اور اُن کا خیال تھا کہ ایمانداروں کی طرح حضرت عیسی کی روح آسمان پر نہیں اُٹھائی گئی کیونکہ وہ صلیب دیئے گئے تھے اور جو صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہے یعنی آسمان پر خدا کی طرف اس کی روح نہیں اُٹھائی جاتی اور قرآن شریف نے صرف اسی جھگڑے کو فیصلہ کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف کا دعویٰ ہے کہ وہ یہود ونصاریٰ کی غلطیوں کو ظاہر کرتا ہے اور ان کے تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے اور یہود کا جھگڑا تو یہ تھا کہ عیسی مسیح ایماندار لوگوں میں سے نہیں ہے اور اس کی نجات نہیں ہوئی اور اس کی روح کا رفع خدا تعالیٰ کی طرف نہیں ہوا۔پس فیصلہ طلب یہ امر تھا کہ عیسی مسیح ایماندار اور خدا کا سچا نبی ہے یا نہیں اور اس کی روح کا رفع مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف ہوا یا نہیں۔یہی قرآن شریف نے فیصلہ کرنا تھا۔پس اگر آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو معہ جسم عنصری دوسرے آسمان پر اُٹھا لیا تو اس کارروائی سے متنازعہ فیہ امر کا کیا فیصلہ ہوا ؟ گویا خدا نے امر متنازعہ فیہ کو سمجھا ہی نہیں اور وہ فیصلہ دیا جو یہودیوں کے دعوئی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا۔پھر آیت میں تو یہ صاف لکھا ہے کہ عیسی کا رفع خدا کی طرف ہوا۔یہ تو نہیں لکھا کہ دوسرے آسمان کی طرف رفع ہوا۔کیا خدائے عزوجل دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے؟ یا نجات اور ایمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم بھی ساتھ ہی اُٹھایا جائے اور عجب بات یہ ہے کہ آیت بَلْ دَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں آسمان کا ذکر بھی نہیں بلکہ اس آیت کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ خدا نے اپنی طرف مسیح کو اُٹھا لیا۔اب بتلاؤ کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل ،حضرت ،اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت موسی اور آنحضرت صلعم نعوذ باللہ کسی اور طرف اُٹھائے گئے تھے خدا کی طرف نہیں ؟ میں اس جگہ زور سے کہتا ہوں کہ اس آیت کی حضرت مسیح سے تخصیص سمجھنا یعنی رفع إِلَى اللهِ انہیں کے ساتھ خاص کرنا اور دوسرے نبیوں کو اس سے باہر رکھنا یہ کلمہ کفر ہے۔اس سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہ ہو گا۔کیونکہ ایسے معنوں سے باستثناء حضرت عیسی تمام انبیاء کو رفع سے جواب دیا گیا ہے۔حالانکہ آنحضرت صلعم نے معراج سے آکر ان کی رفع کی گواہی بھی دی اور یہ یادر ہے کہ حضرت عیسی کی رفع کا ذکر صرف یہودیوں کی تنبیہ اور دفع اعتراض کے لئے تھا۔ورنہ یہ رفع تمام انبیاء اور رسل اور مومنوں میں عام