تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 426 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 426

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۲۶ سورة النساء من تِلْكَ الْحَادِثَةِ الشَّهِيرَةِ الَّتِى سکیں انہیں اس مشہور واقعہ سے انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی جو اشْتَهَرَتْ بَيْنَ الْخَوَاضِ وَالْعَوَاقِ، فَإِنَّ خواص اور عوام میں شہرت پاچکا تھا کیونکہ تمام یہودی فرقوں الصَّلِيْب كَانَ مُوجِباً لِلَّعْنَةِ بِاتِّفَاقِ اور ان کے بڑے بڑے علماء کے اتفاق سے صلیبی موت جميع فِرَقِ الْيَهُودِ وَعُلَمَائِهُمُ موجب لعنت ہے اس لیے انہوں نے عیسی کی بریت کے لیے الْعِظَامِ، فَلِذلِكَ يُحتَتْ قِصَّةُ صَعُودِ بطور ایک حیلہ کے بجسده العصری آپ کے آسمان پر چڑھ الْمَسِيحِ مَعَ الْجِسْمِ حِيْلَةٌ لِلإِبْرَاءِ جانے کا قصہ گھڑ لیا۔لیکن گواہوں کے موجود نہ ہونے کی وجہ فَمَا قُبِلَتْ لِعَدُمِ الشُّهَدَاءِ ، فَرَجَعُوا سے اس حیلہ کو قبولیت عامہ حاصل نہ ہوئی۔پس وہ لعنت کے مُضْطَرِيْنَ إِلى قُبُوْلِ الرّامِ اللَّعْنَةِ، الزام کو قبول کرنے کے لیے بے بس ہو گئے اور انہوں نے یہ وَقَالُوا حَمَلَهَا الْمَسِيحُ تَنْجِيَّةُ للأُمة کہنا شروع کر دیا کہ مسیح علیہ السلام نے امت کی نجات کی وَمَا كَانَتْ هَذِهِ الْمَعَاذِيرُ إِلَّا كَخَبْط خاطر اس لعنت کو قبول کر لیا تھا۔لیکن یہ سب عذر اندھیرے عَشْوَاءَ، ثُمَّ بَعْدَ مُدَّةِ اتَّبَعُوا الْأَهْوَاءِ میں ہاتھ پیر مارنے کے مترادف تھے پھر کچھ مدت کے بعد وَجَعَلُوا مُتَعَبْدِيْنَ ابْنَ مَرْيَمَ لِله انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی شروع کی اور كَشُرَكَاء وَصَارَ صُعُودُ المسيح جان بوجھ کر ابن مریم کو اللہ کا شریک قرار دے دیا۔اور تین وَحَمْلُهُ اللَّعْنَةِ عَقِيدَةُ بَعْدَ ثَلَاثَ سو سال بعد صحیح علیہ السلام کا آسمان پر چڑھ جانا اور لعنت کو مِائَةِ سَنَةٍ عِندَ الْمَسِيحِينَ، ثُمَّ قبول کرنا عیسائیوں کے نزدیک ایک عقیدہ قرار پا گیا پھر تبِعَ بَعْضَ خَيَالَاتِهِمْ بَعْدَ الْقُرُونِ مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تین سو سال الثَّلاثَةِ الفَي الأعوج من بعد میج اعوج میں عیسائیوں کے بعض خیالات کی تقلید شروع الْفَيْجِ الْأَعْوَجِ الْمُسْلِمِينَ۔وَاعْلَمُ ، أَرْشَدَكَ اللهُ أَنَّ کر دی اور اے مخاطب ! اللہ تعالیٰ تجھے ہدایت دے رَسُوْلَنَا مَا رَأى عيسى لِيْلة المعراج خوب سمجھ لو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات الْمِعْرَاجِ إِلَّا فِي أَرْوَاحِ الْأَمْوَاتِ وَإِنَّ في ذلك حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات یافتہ لوگوں کی روحوں میں ہی لايَةٌ لذوى الْحَصَاةِ۔وَكُلُّ مُؤْمِن يُرْفَعُ دیکھا تھا اور اس میں عقلمندوں کے لیے ایک نشان ہے۔اور رُوحُه بَعْدَ الْمَوْتِ وَتُفْتَحُ لَهُ أَبْوَابُ موت کے بعد ہی مومنوں کی روح کا رفع ہوتا ہے اور اس السَّمَاوَاتِ، فَكَيْفَ وَصَلَ الْمَسِيحُ کے لیے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں پھر