تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 373

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۳ سورة النساء آسمان پر پہنچانے کے یہودیوں کی ہمت اور تلاش پر اس کو دل میں کھڑ کا تھا ؟ ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۴۷ تا ۳۵۳) حدیث صحیح میں حضرت عیسی کی عمر ایک سو بیس برس مقرر کر دی گئی ہے حدیث صحیح سے ثابت ہے کہ حضرت عیسی اس عالم کو چھوڑ کر عالم اموات میں گئے اور اب تک ان لوگوں میں رہتے ہیں جو فوت ہو چکے ہیں نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں نہ سوتے ہیں اور نہ کوئی اور خاصہ اس دنیا کی زندگی کا ان میں موجود ہے بیٹی نبی جو فوت ہو کر دوسرے عالم میں گیا ہے وہ بھی ان کے ساتھ ہی ہے۔(ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۳ حاشیه ) انجیل کو پڑھ کر دیکھو کہ حضرت عیسی علیہ السلام صاف دعوی کرتے ہیں کہ میں جہان کا نور ہوں، میں بادی ہوں اور میں خدا سے اعلیٰ درجہ کی محبت کا تعلق رکھتا ہوں اور میں نے اس سے پاک پیدائش پائی ہے اور میں خدا کا پیارا بیٹا ہوں پھر باوجود ان غیر منفک اور پاک تعلقات کے لعنت کا نا پاک مفہوم کیوں کر مسیح کے دل پر صادق آ سکتا ہے ہر گز نہیں۔پس بلاشبہ یہ بات ثابت ہے کہ مسیح مصلوب نہیں ہوا یعنی صلیب پر نہیں مرا کیونکہ اس کی ذات صلیب کے نتیجہ سے پاک ہے اور جبکہ مصلوب نہیں ہوا تو لعنت کی ناپاک کیفیت سے بیشک اس کے دل کو بچایا گیا۔اور بلاشبہ اس سے یہ نتیجہ بھی نکالا کہ وہ آسمان پر ہرگز نہیں گیا کیونکہ آسمان پر جانا اس منصوبہ کی ایک جز تھی اور مصلوب ہونے کی ایک فرع تھی پس جبکہ ثابت ہوا کہ وہ نہ لعنتی ہوا اور نہ تین دن کے لیے دوزخ میں گیا اور نہ مرا تو پھر یہ دوسری جز آسمان پر جانے کی بھی باطل ثابت ہوئی اور اس پر اور بھی دلائل ہیں جو انجیل سے پیدا ہوتے ہیں اور وہ ہم ذیل میں لکھتے ہیں۔چنانچہ منجملہ ان کے ایک یہ قول ہے جو مسیح کے منہ سے نکلا لیکن میں اپنے جی اٹھنے کے بعد تم سے آگے جلیل کو جاؤں گا“۔دیکھو متی باب ۲۶ آیت ۳۲ اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ مسیح قبر سے نکلنے کے بعد جلیل کی طرف گیا تھا نہ آسمان کی طرف اور مسیح کا یہ کلمہ کہ اپنے جی اٹھنے کے بعد اس سے مرنے کے بعد جینا مراد نہیں ہوسکتا۔بلکہ چونکہ یہودیوں اور عام لوگوں کی نظر میں وہ صلیب پر مر چکا تھا اس لیے مسیح نے پہلے سے ان کے آئندہ خیالات کے موافق یہ کلمہ استعمال کیا اور در حقیقت جس شخص کو صلیب پر کھینچا گیا اور اس کے پیروں اور ہاتھوں میں کیل ٹھو کے گئے یہاں تک کہ وہ اس تکلیف سے غشی میں ہو کر مردہ کی سی حالت میں ہو گیا اگر وہ ایسے صدمہ سے نجات پا کر پھر ہوش کی حالت میں آجائے تو اس کا یہ کہنا مبالغہ نہیں ہوگا کہ میں پھر زندہ ہو گیا اور بلاشبہ اس صدمہ عظیمہ کے بعد مسیح کا بچ جانا ایک معجزہ تھا معمولی بات نہیں تھی لیکن یہ درست نہیں ہے کہ ایسا خیال کیا