تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 372
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۲ سورة النساء نے مجھے کیوں چھوڑ دیا۔اب کیوں کر ممکن ہے کہ جب کہ اس حد تک ان کی گدازش اور سوزش پہنچ گئی تھی پھر خدا ان پر رحم نہ کرتا۔پانچویں دلیل یہ ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر صرف گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ رکھے گئے اور شاید اس سے بھی کم اور پھر اتارے گئے اور یہ بالکل بعید از قیاس ہے کہ اس تھوڑے عرصہ اور تھوڑی تکلیف میں ان کی جان نکل گئی ہو اور یہود کو بھی پختہ ظن سے اس بات کا دھڑ کا تھا کہ یسوع صلیب پر نہیں مرا۔چنانچہ اس کی تصدیق میں اللہ تعالیٰ بھی قرآن شریف میں فرماتا ہے وَمَا قَتَلُوهُ یقینا یعنی یہود قتل مسیح کے بارے میں فلن میں رہے اور یقینی طور پر انہوں نے نہیں سمجھا کہ در حقیقت ہم نے قتل کر دیا۔چھٹی دلیل یہ ہے کہ جب یسوع کے پہلو میں ایک خفیف سا چھید دیا گیا تو اس میں سے خون نکلا اور خون بہتا ہوا نظر آیا اور ممکن نہیں کہ مردہ میں خون بہتا ہوا نظر آئے۔ساتویں دلیل یہ ہے کہ یسوع کی ہڈیاں توڑی نہ گئیں جو مصلوبوں کے مارنے کے لیے ایک ضروری فعل تھا کیونکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ تین دن صلیب پر رکھ کر پھر بھی بعض آدمی زندہ رہ جاتے تھے پھر کیوں کر ایسا شخص جو صرف چند منٹ صلیب پر رہا اور ہڈیاں نہ توڑی گئیں وہ مر گیا؟ آٹھویں دلیل یہ ہے کہ انجیل سے ثابت ہے کہ یسوع صلیب سے نجات پا کر پھر اپنے حواریوں کو ملا اور ان کو اپنے زخم دکھلائے اور ممکن نہیں کہ یہ زخم اس حالت میں موجود رہ سکتے کہ جب کہ یسوع مرنے کے بعد ایک تازہ اور نیا جلالی جسم پاتا۔نویں دلیل حضرت عیسی علیہ السلام کے صلیبی موت سے محفوظ رہنے پر یہی نسخہ مرہم عیسی ہے کیونکہ ہرگز خیال نہیں ہو سکتا کہ مسلمان طبیبوں اور عیسائی ڈاکٹروں اور رومی مجوسی اور یہودی طبیبوں نے باہم سازش کر کے یہ بے بنیا د قصہ بنالیا ہو۔بلکہ یہ نسخہ طبابت کی صد با کتابوں میں لکھا ہوا اب تک موجود ہے۔ایک ادنی استعداد کا آدمی بھی قرابادین قادری میں اس نسخہ کو امراض الجلد میں لکھا ہوا پائے گا۔یہ بات ظاہر ہے کہ مذہبی رنگ کی تحریروں میں کئی قسم کی کمی زیادتی ممکن ہے۔کیونکہ تعصبات کی اکثر آمیزش ہو جاتی ہے لیکن جو کتا ہیں علمی رنگ میں لکھی گئیں ان میں نہایت تحقیق اور تدقیق سے کام لیا جاتا ہے۔لہذا یہ نسخہ مرہم عیسیٰ اصل حقیقت کے دریافت کے لیے نہایت اعلیٰ درجہ کا ذریعہ ہے۔اور اس سے پتہ لگتا ہے کہ یہ خیالات کہ گویا حضرت عیسی آسمان پر چلے گئے تھے کیسے اور کس پایا کے ہیں اور خود ظاہر ہے کہ حضرت عیسی کے جسم کو آسمان پر اٹھانے کے لیے کوئی بھی ضرورت نہیں تھی خدا تعالیٰ حکیم ہے عبث کام کبھی نہیں کرتا جبکہ اس نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غار ثور میں صرف دو تین میل کے فاصلے پر مکہ سے چھپا دیا اور سب ڈھونڈ نے والے نا کام اور نامراد واپس کئے تو وہ حضرت مسیح کو کسی پہاڑ کی غار میں چھپا نہیں سکتا تھا اور بجز دوسرے