تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 368
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۸ سورة النساء امور نہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں اور دعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔بھلا مقبول کی ایسی دعا جو تمام رات روروکر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلانا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا اور اگر یہ میچ نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکارو کہ تمہیں آکر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آگئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے ان میں کئی بادشاہ بھی ہوئے اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ توریت میں وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل نبی موعود کے پیرو ہو کر حکومت اور سلطنت پائیں گے۔غرض مسیح ابن مریم کو صلیبی موت سے مارنا یہ ایک ایسا اصل ہے کہ اسی پر مذہب کے تمام اصولوں کفارہ اور تثلیث وغیرہ کی بنیاد رکھی گئی تھی اور یہی وہ خیال ہے کہ جو نصاری کے چالیس کروڑ انسانوں کے دلوں میں سرایت کر گیا ہے اور اس کے غلط ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔اگر عیسائیوں میں کوئی فرقہ دینی تحقیق کا جوش رکھتا ہے تو ممکن ہے کہ ان ثبوتوں پر اطلاع پانے سے وہ بہت جلد عیسائی مذہب کو الوداع کہیں اور اگر اس تلاش کی آگ یورپ کے تمام دلوں میں بھڑک اٹھے تو جو گر وہ چالیس کروڑ انسان کا انیس سو برس میں طیار ہوا ہے ممکن ہے کہ انہیں ماہ کے اندر دست غیب سے ایک پلٹا کھا کر مسلمان ہو جائے کیونکہ صلیبی اعتقاد کے بعد یہ ثابت ہونا کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں مارے گئے بلکہ دوسرے ملکوں میں پھرتے رہے یہ ایسا امر ہے کہ ایک دفعہ عیسائی عقائد کو دلوں سے اڑاتا ہے اور عیسائیت کی دنیا میں انقلاب عظیم ڈالتا ہے۔ر از حقیقت ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۶۴ تا ۱۶۶ حاشیه ) حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتا بہیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا اور کشمیر میں اس نے انتقال کیا اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزرا ہے۔ر از حقیقت، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۱۶۴ حاشیه) میں نے طاعون کے علاج کے لیے ایک مرہم بھی طیار کی ہے۔یہ ایک پرانا نسخہ ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت سے چلا آتا ہے اور اس کا نام مرہم عیسی ہے۔۔۔۔۔۔۔اور مرہم حوار بین بھی اسے کہتے ہیں اور