تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 363
۳۶۳ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة النساء نزول کیا تھی اور کون سا جھگڑا یہود اور نصاریٰ میں حضرت عیسی کے آسمان پر معہ جسم عنصری کے جانے کے متعلق تھا جس جھگڑے کو قرآن شریف نے ان آیات کے ساتھ فیصلہ کرنا چاہا۔ظاہر ہے کہ قرآن شریف کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ یہود اور نصاریٰ کے اختلافات کو حق اور راستی کے ساتھ فیصلہ کرے سو یا در ہے کہ یہود اور نصاریٰ میں جو حضرت عیسی علیہ السلام کی نسبت اختلاف تھا اور اب بھی ہے وہ اختلاف ان کے رفع روحانی کے بارے میں ہے یہود نے صلیب دیئے جانے سے یہ نتیجہ نکالا تھا کہ حضرت عیسی کا رفع روحانی نہیں ہوا اور نعوذ باللہ وہ ملعون ہیں کیونکہ ان کے مذہب کے رو سے ہر ایک مومن کا مرنے کے بعد خدا تعالی کی طرف رفع ہوتا ہے لیکن جو شخص صلیب کے ذریعہ سے مارا جائے اس کا خدا تعالیٰ کی طرف رفع نہیں ہوتا یعنی وہ شخص لعنتی ہوتا ہے پس یہودیوں کی یہ حجت تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام مصلوب ہو گئے اس لیے ان کا رفع روحانی نہیں ہوا اور وہ لعنتی ہیں اور نالائق عیسائیوں نے بھی تین دن کے لیے حضرت عیسی کو رفع سے محروم سمجھا اور لعنتی ٹھہرایا اب قرآن شریف کا اس ذکر سے مدعا یہ ہے کہ حضرت عیسی کے روحانی رفع پر گواہی دے سو اللہ تعالیٰ نے مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ کہ کر نفی صلیب کی اور پھر اس کا نتیجہ یہ نکالا کہ بَلْ تَفَعَهُ اللهُ الیہ اور اس طرح پر جھگڑے کا فیصلہ کر دیا۔اب انصافاً دیکھو کہ اس جگہ رفع جسمانی کا تعلق اور واسطہ کیا ہے۔یہودیوں میں سے اب تک لاکھوں تک زندہ موجود ہیں۔ان کے عالموں فاضلوں کو پوچھ لو کہ کیا آپ لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کے مصلوب ہونے سے یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ ان کا رفع روحانی نہیں ہوا یا یہ کہ ان کا رفع جسمانی نہیں ہوا۔ایسا ہی یہودیہ کہتے تھے کہ سچا مسیح اس وقت آئے گا کہ جب ایلیا نبی ملاکی کی پیشگوئی کے موافق دوبارہ دنیا میں آجائے گا پھر جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت سے جس کی حقیقت انسانوں پر نہیں کھل سکتی یہود کو اس امتحان میں ڈالا کہ ایلیا نبی جس کا ان کو انتظار تھا آسمان سے نازل نہ ہوا اور حضرت ابن مریم نے مسیح ہونے کا دعویٰ کر دیا تو یہ دعوئی یہودیوں کو خلاف نصوص صریحہ معلوم ہوا اور انہوں نے کہا کہ اگر یہ شخص سچا ہے تو پھر نعوذ باللہ توریت باطل ہے اور ممکن نہیں کہ خدا کی کتابیں باطل ہوں۔پس تمام جڑ انکار کی یہی تھی۔اسی وجہ سے یہودی حضرت مسیح کے سخت دشمن ہو گئے اور ان کو کافر اور مرتد اور دجال اور محمد کہنے لگے اور تمام علماء کا فتویٰ ان کے کفر پر ہو گیا اور ان میں زاہد اور راہب اور ربانی بھی تھے وہ سب ان کے کفر پر متفق ہو گئے کیونکہ انہوں نے سمجھا کہ یہ شخص ظاہر نصوص کو چھوڑتا ہے۔یہ تمام فتنہ صرف اس بات سے پڑا کہ حضرت مسیح نے ایلیا نبی کے دوبارہ آنے کے بارے میں یہ تاویل پیش کی تھی کہ اس سے مراد ایسا شخص ہے جو اس کی خواور طبیعت پر ہو اور وہ