تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 362
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۶۲ سورة النساء ایک عجیب فائدہ اس مرہم کے واقعہ کا یہ ہے کہ اس سے حضرت عیسی کے آسمان پر چڑھنے کی بھی ساری حقیقت کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ یہ تمام باتیں بے اصل اور بیہودہ تصورات ہیں اور نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ وہ رفع جس کا قرآن شریف میں ذکر ہے حقیقت میں وفات کے بعد تھا اور اسی رفع مسیح سے خدا تعالیٰ نے یہودیوں اور عیسائیوں کے اس جھگڑے کا فیصلہ کیا جو صد ہا برس سے ان کے درمیان چلا آتا تھا یعنی یہ کہ حضرت عیسیٰ مردودوں اور ملعونوں سے نہیں ہیں اور نہ کفار میں سے جن کا رفع نہیں ہوتا بلکہ وہ بچے نبی ہیں اور در حقیقت ان کا رفع روحانی ہوا ہے جیسا کہ دوسرے نبیوں کا ہوا یہی جھگڑا تھا اور رفع جسمانی کی نسبت کوئی جھگڑا نہ تھا بلکہ وہ غیر متعلق بات تھی جس پر کذب اور صدق کا مدار نہ تھا۔بات یہ ہے کہ یہود یہ چاہتے تھے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کو صلیب کا الزام دے کر ملعون شہر اویں یعنی ایسا شخص جس کا مرنے کے بعد خدا کی طرف روحانی رفع نہیں ہوتا اور نجات سے جو قرب الہی پر موقوف ہے بے نصیب رہتا ہے سو خدا نے اس جھگڑے کو یوں فیصلہ کیا کہ یہ گواہی دی کہ وہ صلیبی موت جو روحانی رفع سے مانع ہے حضرت مسیح پر ہرگز وارد نہیں ہوئی اور ان کا وفات کے بعد رفع الی اللہ ہو گیا ہے۔اور وہ قرب الہی پاکر کامل نجات کو پہنچ گیا کیونکہ جس کیفیت کا نام نجات ہے اس کا دوسرے لفظوں میں نام رفع ہے اسی کی طرف ان آیات میں اشارہ ہے که وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ۔۔۔۔۔بَلْ تَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ - (کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد ۱۳، صفحه ۲۰ تا ۲۳) ایک بڑا دھو کہ ان کم فہم علماء کو یہ لگا ہوا ہے جب قرآن شریف میں یہ لوگ یہ آیت پڑھتے ہیں کہ مَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلكِنْ شُبّهَ لَهُمُ اور نیز یہ آیت کہ بَلْ رَفَعَهُ اللهُ الیہ تو اپنی غایت درجہ کی نادانی سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ فی قتل اور نفی صلیب اور لفظ رفع اسی پر دلالت کرتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام یہود کے ہاتھ سے بچ کر اپنے جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چلے گئے۔گویا بجز آسمان کے اور کوئی جگہ ان کے پوشیدہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کو زمین پر نہیں ملتی تھی۔ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کافروں کے ہاتھ سے محفوظ رکھنے کے لیے تو ایک وحشت ناک اور سانپوں سے بھری ہوئی غار کفایت ہو گئی مگر مسیح کے دشمن زمین پر اس کو نہیں چھوڑ سکتے تھے خواہ اللہ تعالیٰ ان کو بچانے کے لیے زمین پر کیسی ہی تدبیر کرتا اس لیے مجبوراً یہودیوں سے اللہ تعالیٰ نے نعوذ باللہ عاجز آکر ان کے لیے آسمان تجویز کیا قرآن میں تو رفع الی السماء کا ذکر بھی نہیں بلکہ رفع الی اللہ کا ذکر ہے جو ہر ایک مومن کے لیے ہوتا ہے۔یہ لوگ یہ بھی نہیں سوچتے کہ اگر یہی قصہ صحیح ہے تو قرآن شریف نے جو اس قصہ کولکھا تو ان آیات کی شان