تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 309
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٩ سورة النساء عورتوں کے لیے خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر ایک بلا سے بچاوے گا۔اور ان کی اولا د عمر والی ہوگی اور نیک بخت ہوگی۔مکتوبات جلد ۵ نمبر ۵ صفحه ۲۰۷ مکتوب بنام ہر دو اہلیہ حضرت میاں عبداللہ صاحب سنوری) مرد چونکہ الرجال قوامُونَ عَلَى النِّسَاءِ کا مصداق ہے اس لیے اگر وہ لعنت لیتا ہے تو وہ لعنت بیوی بچوں کو بھی دیتا ہے اور اگر برکت پاتا ہے تو ہمسائیوں اور شہر والوں تک کو بھی دیتا ہے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ مئی ۱۹۰۲ صفحه ۷) الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاء۔اسی لیے کہا ہے کہ عورتیں خاوندوں سے متاثر ہوتی ہیں جس حد تک خاوند صلاحیت اور تقویٰ بڑھاوے گا کچھ حصہ اس سے عورتیں ضرور لیں گی۔ویسے ہی اگر وہ بدمعاش ہو گا تو بدمعاشی سے وہ حصہ لیں گی۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۰ مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۷۵ ) عورتیں اصل میں مردوں کی ہی ذیل میں ہوا کرتی ہیں۔(الحکم جلدے نمبر ۱۴ مورخہ ۱۷ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰) مرد گھر کا کشتی بان ہوتا ہے اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی بھی ساتھ ہی ڈوبے گی اسی لیے کہا الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ۔اسی کی رستگاری کے ساتھ اس کے اہل وعیال کی رستگاری ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ ؍ جولائی ۱۹۰۴ ، صفحہ ۴) عورتوں میں بت پرستی کی جڑ ہے کیونکہ ان کی طبائع کا میلان زینت پرستی کی طرف ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ بت پرستی کی ابتدا انہی سے ہوئی ہے بزدلی کا مادہ بھی ان میں زیادہ ہوتا ہے کہ ذراسی سختی پر اپنی جیسی مخلوق کے آگے ہاتھ جوڑنے لگ جاتی ہے اس لیے جو لوگ زن پرست ہوتے ہیں رفتہ رفتہ ان میں بھی یہ عادتیں سرایت کر جاتی ہیں۔پس بہت ضروری ہے کہ ان کی اصلاح کی طرف متوجہ رہو۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ۔اور اسی لیے مرد کو عورتوں کی نسبت قوی زیادہ دیئے گئے ہیں۔اس وقت جونئی روشنی کے لوگ مساوات پر زور دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرد اور عورت کے حقوق مساوی ہیں ان کی عقلوں پر تعجب آتا ہے وہ ذرا مردوں کی جگہ عورتوں کی فوجیں بنا کر جنگوں میں بھیج کر دیکھیں تو سہی کہ کیا نتیجہ مساوی نکلتا ہے یا مختلف؟ ایک طرف تو اسے حمل ہے اور ایک طرف جنگ ہے وہ کیا کر سکے گی۔غرضیکہ عورتوں میں مردوں کی نسبت قویٰ کمزور ہیں اور کم بھی ہیں اس لیے مرد کو چاہیے کہ عورت کو اپنے ماتحت رکھے۔یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی یہ لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے ذرا ان کی اخلاقی حالت کو اندازہ