تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 302
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لا سورة النساء اور جن عورتوں کے ساتھ تمہارے باپوں نے نکاح کیا ہو تم ان کے ساتھ نکاح مت کرو اور جو ہو چکا اس پر کچھ مؤاخذہ نہیں ( یعنی جاہلیت کے زمانہ کی خطا معاف کی گئی ) اور پھر فرماتا ہے کہ باپ کی منکوحہ عورت کو کرنا یہ بڑی بے حیائی اور غضب کی بات تھی اور بہت ہی برا دستور تھا۔(چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۲۵۰) حُرمَتْ عَلَيْكُمْ أمَّهُتُكُمْ وَبَنْتُكُمْ وَاَخَوَاتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخُلتُكُمْ وَبَنتُ الآخ وَ بَنْتُ الْأُخْتِ وَأَمَّهُتُكُمُ الَّتِى اَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ أَمَّهُتُ نِسَابِكُمْ وَ رَبَا بِبُكُمُ الَّتِى فِى حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَا بِكُمُ الَّتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَابِلُ ابْنَا بِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَ اَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا نَحِيمان اس زمانہ میں عرب کا حال نہایت درجہ کی وحشیانہ حالت تک پہنچا ہوا تھا اور کوئی نظام انسانیت کا ان میں باقی نہیں رہا تھا اور تمام معاصی ان کی نظر میں فخر کی جگہ تھے ایک ایک شخص صدہا بیویاں کر لیتا تھا، حرام کا کھانا ان کے نزدیک ایک شکار تھا، ماؤں کے ساتھ نکاح کرنا حلال سمجھتے تھے اس واسطے اللہ تعالیٰ کو کہنا پڑا کہ حُرمَتْ عَلَيْكُمْ أمهتم یعنی آج مائیں تمہاری تم پر حرام ہو گئیں۔(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزین جلد ۱۰ صفحه ۳۲۸، ۳۲۹) تم پر تمہاری مائیں حرام کی گئیں اور ایسا ہی تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور تمہاری بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور تمہاری رضاعی بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری بیویوں کے پہلے خاوند سے لڑکیاں جن سے تم ہم صحبت ہو چکے ہو اور اگر تم ان سے ہم صحبت نہیں ہوئے تو کوئی گناہ نہیں اور تمہارے حقیقی بیٹیوں کی عورتیں اور ایسے ہی دو بہنیں ایک وقت میں یہ سب کام جو پہلے ہوتے تھے۔آج تم پر حرام کیے گئے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزئن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶،۳۳۵) تم پر یہ سب رشتے حرام کیے گئے ہیں جیسے تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور دائیاں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا اور دودھ شریک بہنیں اور تمہاری عورتوں کی وہ لڑکیاں جو تمہاری گودوں میں پرورش پائیں اور تمہارے گھروں میں رہیں مگر عورتوں سے وہ عورتیں مراد ہیں جو تم سے ہم بستر ہو چکی ہوں اور اگر تم نے ان عورتوں سے صحبت داری نہ کی ہو تو اس صورت میں تمہیں