تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 301
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠١ سورة النساء حمیدہ کے قائل اور دلی محبت آپ سے رکھتے ہیں اور دوسری چونکہ مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ حکومت قستام از لی نے دے رکھی ہے اور ذرہ ذرہ ہی باتوں میں تادیب کی نیت سے یا غیرت کے تقاضا سے وہ اپنی حکومت کو استعمال کرنا چاہتے ہیں مگر چونکہ خدا تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے ساتھ معاشرت کے بارے میں نہایت حلم اور برداشت کی تاکید کی ہے اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ آپ جیسے رشید اور سعید کو اس تاکید سے کسی قدر اطلاع کروں اللہ جل شانہ فرماتا ہے عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ یعنی اپنی بیویوں سے تم ایسے معاشرت کرو جس میں کوئی امر خلاف اخلاق معروفہ کے نہ ہو اور کوئی وحشیانہ حالت نہ ہو بلکہ ان کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ بِأَهْلِهِ یعنی تم میں سے بہتر وہ انسان ہے جو بیوی سے نیکی سے پیش آوے اور حسن معاشرت کے لیے اس قدر تاکید ہے کہ میں اس خط میں لکھ نہیں سکتا۔عزیز من انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کر دیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔نرمی برتنی چاہیے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہیے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیوں کر شرائط مہمان داری بجالاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے مجھے اس پر کون سی زیادتی ہے خونخوار انسان نہیں بننا چاہیے بیویوں پر رحم کرنا چاہیے اور ان کو دین سکھلانا چاہیے در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقع اس کی بیوی ہے میں جب کبھی اتفاقا ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صدہا کوس سے میرے حوالہ کیا ہے شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لیے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دیں اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں سو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ہمارے سید و مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدر اپنی بیویوں سے علم کرتے تھے زیادہ کیا لکھوں۔والسلام القام جلد ۹ نمبر ۱۳ مورخه ۱۷ را پریل ۱۹۰۵ صفحه ۶) وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ ابَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلان ی بھی جائز نہیں کہ تم ان عورتوں کو نکاح میں لاؤ جو تمہارے باپوں کی بیویاں تھیں جو پہلے ہو چکا سو ہو چکا۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۶)