تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 282
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۲ سورة النساء کیا مگر تعد دازواج کو نا جائز کہہ کر وہی اعتراض اس شکل میں حضرت مریم کی اولاد پر کر دیا اور اس طرح پر خود مسیح اور ان کے دوسرے بھائیوں کی پیدائش پر حملہ کیا۔واقعی عیسائیوں نے تعدد ازواج کے مسئلہ پر اعتراض کر کے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ہم تو حضرت مسیح کی شان بہت بڑی سمجھتے ہیں اور اسے خدا کا سچا اور برگزیدہ نبی مانتے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ آپ کی پیدائیش باپ کے بدوں خدا تعالیٰ کی قدرت کا ایک نمونہ تھی اور حضرت مریم صدیقہ تھیں یہ قرآن کریم کا احسان ہے حضرت مریم پر اور حضرت مسیح پر جو ان کی تطہیر کرتا ہے اور پھر یا احسان ہے اس زمانہ کے موعود امام کا کہ اس نے از سر نو اس تطہیر کی تجدید فرمائی۔الحکم جلد ۵ نمبر ۴۱، مورخه ۱۰ نومبر ۱۹۰۱ صفحه ۳) اگر چه عورت بجائے خود پسند نہیں کرتی کہ کوئی اور اس کی سوت آدے مگر اسلام نے جس اصول پر کثرت ازدواج کو رکھا ہے وہ تقویٰ کی بنا پر ہے۔بعض وقت اولاد نہیں ہوتی اور بقائے نوع کا خیال انسان میں ایک فطرتی تقاضا ہے اس لیے دوسری شادی کرنے میں کوئی عیب نہیں ہوتا۔بعض اوقات پہلی بیوی کسی خطر ناک مرض میں مبتلا ہو جاتی ہے اور بہت سے اسباب اس قسم کے ہوتے ہیں پس اگر عورتوں کو پورے طور پر خدا تعالیٰ کے احکام سے اطلاع دی جاوے اور انہیں آگاہ کیا جاوے تو وہ خود بھی دوسری شادی کی ضرورت پیش آنے پر سائی ہوتی ہیں۔الحکام جلد ۵ نمبر ۴۴ مورخه ۳۰/نومبر ۱۹۰۱ء صفحه ۲) عورتوں میں یہ بھی ایک بد عادت ہے کہ جب کسی عورت کا خاوند کسی اپنی مصلحت کے لیے کوئی دوسرا نکاح کرنا چاہتا ہے تو وہ عورت اور اس کے اقارب سخت ناراض ہوتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں اور شور مچاتے ہیں اور اس بندۂ خدا کو ناحق ستاتے ہیں۔ایسی عورتیں اور ایسے ان کے اقارب بھی نابکار اور خراب ہیں کیونکہ اللہ جل شانہ نے اپنی حکمت کا ملہ سے جس میں صد با مصالحہ ہیں مردوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ اپنی کسی ضرورت یا مصلحت کے وقت چار تک بیویاں کر لیں۔پھر جو شخص اللہ رسول کے حکم کے مطابق کوئی نکاح کرتا ہے تو اس کو کیوں برا کہا جائے۔ایسی عورتیں اور ایسے ہی اس عادت والے اقارب جو خدا اور اس کے رسول کے حکموں کا مقابلہ کرتے ہیں نہایت مردود اور شیطان کی بہنیں اور بھائی ہیں کیونکہ وہ خدا اور رسول کے فرمودہ سے منہ پھیر کر اپنے رب کریم سے لڑائی کرنا چاہتے ہیں اور اگر کسی نیک دل مسلمان کے گھر میں ایسی بدذات بیوی ہو تو اسے مناسب ہے کہ اس کو سزا دینے کے لیے دوسرا نکاح ضرور کرے۔( مجموعه اشتها را تجلد اولصفحه ۸۶)