تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 10

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1۔سورة ال عمران ایک طرف دعوی اتقا کرتے ہیں اور دوسری طرف شاکی ہوتے ہیں کہ ہمیں وہ برکات نہیں ملے۔ان دونو میں سے ہم کس کو سچا کہیں اور کس کو جھوٹا ؟ خدا تعالیٰ پر ہم کبھی الزام نہیں لگا سکتے : إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ المعاد (ال عمران:۹) خدا تعالیٰ اپنے وعدوں کا خلاف نہیں کرتا۔ہم اس مدعی کو جھوٹا کہیں گے۔اصل یہ ہے کہ ان کا تقویٰ یا اُن کی اصلاح اس حد تک نہیں ہوتی کہ خدا کی نظر میں قابل وقعت ہو یا وہ خدا کے متقی نہیں ہوتے ، لوگوں کے متقی اور ریا کا رانسان ہوتے ہیں۔سو اُن پر بجائے رحمت اور برکت کے لعنت کی مار ہوتی ہے جس سے سرگرداں اور مشکلات دنیا میں مبتلا رہتے ہیں۔خدا تعالیٰ متقی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔وہ اپنے وعدوں کا پکا اور سچا اور پورا ہے۔الحکم جلدے نمبر ۱۲ مؤرخہ ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۵) کیسے نادان وہ لوگ ہیں جن کا یہ مذہب ہے کہ خدا اپنے ارادوں کو بدلا نہیں سکتا اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی کو ٹال نہیں سکتا۔مگر ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ ٹال سکتا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہا ہے اور ہمیشہ ٹالتا رہے گا اور ہم ایسے خدا پر ایمان ہی نہیں لاتے کہ جو بلا کو تو بہ اور استغفار سے رڈ نہ کر سکے اور تضرع کرنے والوں کے لئے اپنے ارادوں کو بدل نہ سکے ، وہ ہمیشہ بدلتا رہے گا۔یہاں تک کہ پہلی آسمانی کتابوں میں لکھا ہے کہ ایک بادشاہ کی صرف پندرہ دن کی عمر رہ گئی تھی خدا نے اُس کی تضرع اور گریہ وزاری سے بجائے پندرھا دن کے پندرہ سال کر دیئے یہی ہمارا ذاتی تجربہ ہے ایک خوفناک پیشگوئی ہوتی ہے اور دُعا سے ٹل جاتی ہے۔پس اگر ان لوگوں کا فرضی خدا ان باتوں پر قادر نہیں تو ہم اُس کو نہیں مانتے۔ہم اُس خدا کو مانتے ہیں جس کی صفت قرآن شریف میں یہ کھی ہے کہ : آلَم تَعْلَمُ اَنَّ اللهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (البقرة : ١٠٧) اور وعید یعنی عذاب کی پیشگوئی ملنے کے بارہ میں تمام نبی متفق ہیں۔رہی وعدہ کی پیشگوئی جس کی نسبت یہ حکم ہے کہ إِنَّ اللهَ لَا يُخْلِفُ المعاد، اس کی نسبت بھی ہمارا یہ ایمان ہے کہ خدا اس وعدہ کا تخلف نہیں کرتا جو اُس کے علم کے موافق ہے لیکن اگر انسان اپنی غلطی سے ایک بات کو خدا کا وعدہ سمجھ لے جیسا کہ حضرت نوح نے سمجھ لیا تھا ایسا متخلف وعدہ جائز ہے کیونکہ دراصل وہ خدا کا وعدہ نہیں بلکہ انسانی غلطی نے خواہ مخواہ اُس کو وعدہ قرار دیا ہے اسی کے متعلق سید عبد القادر جیلانی فرماتے ہیں: قَدْ يُوعَدُ وَ لَا يُوفی یعنی بھی خدا تعالیٰ وعدہ کرتا ہے اور اُس کو پورا نہیں کرتا۔اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ اس وعدہ کے ساتھ مخفی طور پر کئی شرائط ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ پر واجب نہیں کہ تمام شرائط ظاہر کرے۔پس اس جگہ ایک کچا آدمی ٹھوکر کھا کر منکر ہو جاتا ہے اور کامل انسان اپنے جہل کا اقرار کرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم۔