تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 9
سورة ال عمران تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام عدم کو قطعی وعدہ خیال کرتا ہو۔اسی وجہ سے المیعاد پر جو الف لام ہے وہ عہد ذہنی کی قسم میں سے ہے یعنی وہ امر جو ارادہ قدیمہ میں وعدہ کے نام سے موسوم ہے گو انسان کو اُس کی تفاصیل پر علم ہو یا نہ ہو وہ غیر متبدل ہے ور نہ ممکن ہے جو انسان جس بشارت کو وعدہ کی صورت میں سمجھتا ہے اُس کے ساتھ کوئی ایسی شرط مخفی ہو جس کا عدم تحقق ، اس بشارت کے عدم تحقق کے لئے ضرور ہو کیونکہ شرائط کا ظاہر کرنا اللہ جل شانہ پر حق واجب نہیں ہے۔چنانچہ اسی بحث کو شاہ ولی اللہ صاحب نے بسط سے لکھا ہے اور مولوی عبدالحق صاحب دہلوی نے بھی فتوح الغیب کی شرح میں اس میں بہت عمدہ بیان کیا ہے اور لکھا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بدر کی لڑائی میں تضرع اور دعا کرنا اسی خیال سے تھا کہ الہی مواعید اور بشارات میں احتمال شرط مخفی ہے اور یہ اس لئے سنت اللہ ہے کہ تا اس کے خاص بندوں پر ہیبت اور عظمت الہی مستولی رہیں۔ماحصل کلام یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدوں میں بے شک مختلف نہیں وہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کے علم میں ہیں پورے ہو جاتے ہیں لیکن انسان ناقص العقل کبھی ان کو تخلف کی صورت میں سمجھ لیتا ہے کیونکہ بعض ایسی مخفی شرائط پر اطلاع نہیں پاتا جو پیشگوئی کو دوسرے رنگ میں لے آتے ہیں اور ہم لکھ چکے ہیں کہ الہامی پیشگوئیوں میں یہ یادر کھنے کے لائق ہے کہ وہ ہمیشہ ان شرائط کے لحاظ سے پوری ہوتی ہیں جو سنت اللہ میں اور الہی کتاب میں مندرج ہو چکی ہیں گو وہ شرائکہ کسی ولی کے الہام میں ہوں یا نہ ہو۔مجموعہ اشتہارات ، جلد صفحه ۴۴۸،۴۴۷ حاشیه ) وقتوں اور میعادوں کا ٹلنا تو ایک ایسی سنت اللہ ہے جس سے بجز ایک سخت جاہل کے اور کوئی انکار نہیں کر سکتا۔دیکھو! حضرت موسیٰ کو نزول توریت کے لئے تھیں رات کا وعدہ دیا تھا اور کوئی ساتھ شرط نہ تھی مگر وہ وعدہ قائم نہ رہا اور اُس پر دس دن اور بڑھائے گئے جس سے بنی اسرائیل گوسالہ پرستی کے فتنہ میں پڑے۔پس جبکہ اس نص قطعی سے ثابت ہے کہ خدا تعالیٰ ایسے وعدہ کی تاریخ کو بھی ٹال دیتا ہے جس کے ساتھ کسی شرط کی تصریح نہیں کی گئی تھی تو وعید کی تاریخ میں عند الرجوع تاخیر ڈالنا خود گرم میں داخل ہے اور ہم لکھ چکے ہیں کہ اگر تاریخ عذاب کسی کے تو بہ استغفار سے مل جائے تو اُس کا نام تختلف وعدہ نہیں کیونکہ بڑا وعدہ سنت اللہ ہے پس جبکہ سنت اللہ پوری ہوئی تو وہ ایفا ء وعدہ ہوا نہ تخلف وعدہ۔( مجموعہ اشتہارات جلدا صفحه ۴۴۶، ۴۴۷) خدا کا یہ وعدہ برحق ہے اور ہمارا ایمان ہے کہ خدا اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا اور بڑا رحیم کریم ہے جو اللہ تعالیٰ کا بنتا ہے وہ اُسے ہر ذلت سے نجات دیتا ہے اور خود اس کا حافظ و ناصر بن جاتا ہے مگر وہ جو