تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 239 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 239

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۳۹ سورة ال عمران اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے کہ انہوں نے ایسے نازک وقت میں صحابہ کو سنبھالا۔مجھے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض نادان اپنی جلد بازی اور شتاب کاری کی وجہ سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ یہ آیت تو بیشک حضرت ابو بکر نے پڑھی لیکن حضرت عیسی علیہ السلام اس سے باہر رہ جاتے ہیں۔میں نہیں جانتا کہ ایسے نادانوں کو میں کیا کہوں وہ باوجود مولوی کہلانے کے ایسی بیہودہ باتیں پیش کر دیتے ہیں وہ نہیں بتاتے کہ اس آیت میں وہ کون سا لفظ ہے جو حضرت عیسی کو الگ کرتا ہے؟ پھر اللہ تعالیٰ نے تو کوئی امر قابل بحث اس میں چھوڑا ہی نہیں قَدْ خَلَتْ کے معنے خود ہی کروائے آقا بِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ اگر کوئی تیسری شق بھی اس کے سوا ہوتی تو کیوں نہ کہ دیتا او رُفِعَ بِجَسَدِ الْعُنْصُرِي إِلَى السَّمَاءِ کیا خدا تعالیٰ اس کو بھول گیا تھا جو یہ یاددلاتے ہیں؟ نعوذ باللہ من ذالك ! (احکام جلد ۰ انمبر ۳۲ مورخه ۱۷ستمبر ۱۹۰۶ صفحه ۳) یہ کہنا کہ حضرت عیسی کا دوبارہ دنیا میں آنا اجماعی عقیدہ ہے یہ سراسر افترا ہے۔صحابہ رضی اللہ عنہم کا ہے۔اجماع صرف اس آیت پر ہوا تھا کہ : مَا مُحَمَّدٌ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - پھر بعد ان کے اُمت میں طرح طرح کے فرقے پیدا ہو گئے چنانچہ معتزلہ اب تک حضرت عیسی کی وفات کے قائل ہیں اور بعض اکابر صوفیہ بھی ان کی موت کے قائل ہیں اور مسیح موعود کے ظہور سے پہلے اگر امت میں سے کسی نے یہ خیال بھی کیا کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آئیں گے تو ان پر کوئی گناہ نہیں صرف اجتہادی خطا ہے جو اسرائیلی نبیوں سے بھی بعض پیشگوئیوں کے سمجھنے میں ہوتی رہی ہے۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۲ حاشیه ) اس بات پر زور دینا کہ اس بات پر اتفاق ہو چکا ہے کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آئیں گے یہ عجیب افتراء ہے جو سمجھ نہیں آتا۔اگر اتفاق سے مراد صحابہ کا اتفاق ہے تو یہ اُن پر تہمت ہے اُن کی تو بلا کو بھی اس مستحدث عقیدہ کی خبر نہیں تھی کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں آجائیں گے اور اگر اُن کا یہ عقیدہ ہوتا تو اس آیت کے مضمون پر روروکر کیوں اتفاق کیا جاتا کہ : مَا مُحَمَّدُ إِلا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صرف ایک انسان رسول تھے خدا تو نہیں تھے اور اُن سے پہلے سب رسول دنیا سے گزر گئے ہیں۔پس اگر حضرت عیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات تک دنیا سے نہیں گزرے تھے اور اُن کو اُس وقت تک ملک الموت چھو نہیں گیا تھا تو اس آیت کے سننے کے بعد کیوں کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اس عقیدہ سے رجوع کر لیا کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔ہر ایک