تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 215
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ سورة ال عمران الْمُبَارَكِ أَشَدُّ وَأَزْيَدُ مِنْ حَاجَتِهِمْ إلى مسلمانوں کو آپ کے وجود مبارک کی جو ضرورت ہے وہ وُجُودِ الْمَسِيحِ لَكِتَهُمْ مَّا رَدُّوا عَلَى حضرت مسیح علیہ السلام کے وجود سے زیادہ شدید اور اہم الصَّدِيقِ بِهذِهِ الْكَلِمَاتِ، بَلْ سَكَتُوا ہے لیکن انہوں نے اس قسم کے الفاظ کہہ کر حضرت ابو بکر كُلُّهُمْ وَ تَبذُوا مِن أَيْدِهم سهام کو جواب نہیں دیا بلکہ سب کے سب خاموش رہے اور اپنے الْإِنْكَارِ، وَقَبِلُوا قَوْلَهُ، وَيَكُوا وَقَالُوا إِنَّا ہاتھوں سے انکار کے تیروں کو پھینک دیا اور آپ کی بات کو لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔وَ نَظَرُوا إِلى مَوْتِ قبول کر لیا اور رو پڑے اور انہوں نے کہا تو یہی کہ انا للہ الْأَنْبِيَاءِ كُلِّهِمْ وَامَانُوا بِهَا، فَاتَهُمْ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ اس طرح انہیں تمام انبیاء کی موت پر مَاتُوا كُلُّهُمْ وَ مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْهُمْ فِین یقین آ گیا اور وہ اس بات پر مطمئن ہو گئے کہ سب کے سب نبی فوت ہو گئے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی ہمیشہ الخالدين (حمامة البشری، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۴۶٫۲۳۵) زندہ رہنے والا نہیں۔( ترجمہ از مرتب) ، تحلت کا لفظ جہاں جہاں قرآن شریف میں انسانوں کے لئے استعمال ہوا ہے موت کے معنوں پر استعمال ہوا ہے۔لہذا آیت : قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ سے بھی حضرت عیسی کی موت ہی ثابت ہوئی۔ایام اصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۳۵۴ حاشیه ) وو قَدْ قَالَ اللهُ سُبْحَانَهُ وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا اور خدا فرماتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم رسول ہیں اور رَسُولُ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں یہ آیت بتاتی ہے کہ سارے فَصَرَّحَ بِأَنَّ الْأَنْبِيَاءَ الَّذِينَ كَانُوا مِنْ اگلے نبی فوت ہو چکے ہیں اسی آیت کو حضرت ابو بکر صدیق قَبْلُ مَاتُوا كُلُّهُمْ وَالْمُرْسَلُونَ، وَهَذِهِ نے تمام صحابہ کو سنایا جب انہوں نے اختلاف کیا یعنی جب أيَةً تَلَاهَا أَبو بَكْرِ الصِّدِّيقُ رَضِيَ الله بعض لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت میں عَنْهُ إذْ كَانَ الْأَصْحَابُ يَخْتَلِفُونَ۔أَغنى اختلاف کیا اور حضرت عمر نے کہا کہ آ محضرت (صلی اللہ علیہ إِذَا اخْتَلَفَ بَعْضُ النَّاسِ مِنَ الصَّحَابَةِ وسلم ) اسی طرح واپس آئیں گے جیسا کہ عیسی واپس آئے گا في مَوْتِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَ اور اسی طرح اور بعض خطا کاروں نے بھی کہا تو اس وقت سَلَّمَ، وَقَالَ عُمَرُ إِنَّهُ سَيَرْجِعُ كَمَا يَرْجِعُ حضرت ابو بکر نے ان کا کلام سنا اور ان کے گمان پر آگاہ عِيسَى، وَكَذَالِكَ قَالَ بَعْضُهُمُ الَّذِينَ ہوئے تب منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ ان کے گرد جمع