تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 179 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 179

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۹ سورة ال عمران میں لیلی وقف کا معیار اور محک وہ تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ضرورت بیان کی اور وہ کل اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے۔سکتے۔الحکم جلد ۴ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴/اگست ۱۹۰۰ صفحه ۴) جب تک تم اپنے عزیز ترین اشیاء اللہ تعالیٰ جل شانہ کی راہ میں خرچ نہ کرو تب تک تم نیکی کو نہیں پا الحکم جلدے نمبر ۲۵ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۳ صفحه ۸) اس میں چندہ دینے اور مال صرف کرنے کی تاکید اور اشارہ ہے۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰۲) لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یہ معنے ہیں کہ سب سے عزیز شے جان ہے اگر موقعہ ہو تو وہ بھی خدا کی راہ میں دے دی جاوے۔نماز میں اپنے اوپر جو موت اختیار کرتا ہے وہ بھی پڑ کو پہنچتا ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ء صفحه ۴) ایسا ہی مالی عبادت جس قدر انسان اپنی کوشش سے کر سکتا ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ اپنے اموال مرغوبہ میں سے کچھ خدا کے لئے دیوے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی سورت میں فرمایا ہے وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنفِقُونَ (البقرة : ۳) اور جیسا کہ ایک دوسری جگہ فرمایا ہے: کن تنالُوا البر حتى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ - لیکن ظاہر ہے کہ اگر مالی عبادت میں انسان صرف اسی قدر بجالا دے کہ اپنے اموال محبوبہ مرغوبہ میں سے کچھ خدا تعالیٰ کی راہ میں دیوے تو یہ کچھ کمال نہیں ہے کمال تو یہ ہے کہ ماسوئی سے بکلی دست بردار ہو جائے اور جو کچھ اُس کا ہے وہ اُس کا نہیں بلکہ خدا کا ہو جائے۔یہاں تک کہ جان بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں فدا کرنے کے لئے طیار ہو۔(حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۴۰،۱۳۹) انسان میں ہمدردی اعلیٰ درجہ کا جو ہر ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تحبون یعنی تم ہر گز ! ہر گز ! اس نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں کو اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرو۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جاوے اور وہ کہے کہ اچھا اس کو منس ( راہ خدا پر دینا ) دیتے ہیں بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سری بسی روٹیاں جو کسی کام نہیں آسکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے ایسی باتیں اللہ تعالیٰ کو منظور نہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے وہ تو صاف طور پر کہتا ہے : لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا