تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 178
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۷۸ سورة ال عمران پر حریص رہتے تھے کہ موقع ملے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان قربان کر دیں۔(کلمه طیبه صفحه ۱۴) بیکار اور کتی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔نیکی کا دروازہ تنگ ہے پس یہ امر ذہن نشین کر لو کہ علمی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ نقی صریح ہے: لَن تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنًا تُحِبُّونَ جب تک عزیز سے عزیز اور پیاری سے پیاری چیزوں کو خرچ نہ کرو گے اس وقت تک محبوب اور عزیز ہونے کا درجہ نہیں مل سکتا۔اگر تکلیف اٹھانا نہیں چاہتے اور حقیقی نیکی کو اختیار کرنا نہیں چاہتے تو کیوں کر کامیاب اور بامراد ہو سکتے ہو؟ کیا صحابہ کرام مفت میں اس درجہ تک پہنچ گئے جو ان کو حاصل ہوا۔دنیاوی خطابوں کے حاصل کرنے کے لیے کس قدر اخراجات اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں تو پھر کہیں جا کر ایک معمولی خطاب جس سے دلی اطمینان اور سکینت حاصل نہیں ہوسکتی ملتا ہے۔پھر خیال کرو کہ رضی اللہ عنہم کا خطاب جو دل کو تسکی اور قلب کو اطمینان اور مولا کریم کی رضامندی کا نشان ہے کیا یونہی آسانی سے مل گیا ؟ بات یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کی رضا مندی جو حقیقی خوشی کا موجب ہے حاصل نہیں ہو سکتی جب تک عارضی تکلیفیں برداشت نہ کی جاویں۔خدا ٹھگا نہیں جاتا۔مبارک ہیں وہ لوگ ! جو رضائے الہی کے حصول کے لیے تکلیف کی پروانہ کریں کیونکہ ابدی خوشی اور دائمی آرام کی روشنی اس عارضی تکلیف کے بعد مومن کو ملاتی ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ ء صفحہ ۷۹ ) دنیا میں انسان مال سے بہت زیادہ محبت کرتا ہے۔اسی واسط علم تعبیر الرویا میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس نے جگر نکال کر کسی کو دیا ہے تو اس سے مراد مال ہے یہی وجہ ہے کہ حقیقی اتقا اور ایمان کے حصول کے لیے فرمایا: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ حقیقی نیکی کو ہر گز نہ پاؤ گے جب تک کہ تم عزیز ترین خرچ نہ کرو گے کیونکہ مخلوق الہی کے ساتھ ہمدردی اور سلوک کا ایک بڑا حصہ مال کے خرچ کرنے کی ضرورت بتلاتا ہے اور ابنائے جنس اور مخلوق الہی کی ہمدردی ایک ایسی شے ہے جو ایمان کا دوسرا جزو ہے جس کے بدوں ایمان کامل اور راسخ نہیں ہوتا جب تک انسان ایثار نہ کرے دوسرے کو نفع کیوں کر پہنچا سکتا ہے دوسرے کی نفع رسانی اور ہمدردی کے لیے ایثا ر ضروری شے ہے اور اس آیت میں کن تنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِنَا تُحبون میں اسی ایثار کی تعلیم اور ہدایت فرمائی گئی ہے۔پس مال کا اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنا بھی انسان کی سعادت اور تقویٰ شعاری کا معیار اور محک ہے ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی