تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 135 of 482

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 135

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۵ سورة ال عمران عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ بَعْدَ نَبِنَا صَلَّى الله سے مؤخر ہے اور ان وعدوں سے مقدم ہے جو اس آیت کی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ مُكْبِ قَبْلَ غَلَبَةِ ترتیب میں اس جملہ کے بعد ذکر ہوئے ہیں تو لازم آئے گا أَتْبَاعِهِ عَلى أَعْدَاعِهِمْ، وَ هَذَا بَاطِل کہ ہم اقرار کریں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات أَيْضًا بِزَعْمِ الْقَوْمِ، فَإِنهُمْ قَدِ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بلاتاخیر واقع ہوگئی پیشتر اعْتَقَدُوْا أَنَّ الْمَسِيحَ لَا يَمُوتُ إِلَّا بَعْد اس کے کہ آپ کے متبعین کو ان کے دشمنوں پر غلبہ حاصل هَلَاكِ الْمِلَّلِ كُلِّهَا۔فَلَوْ رَجَعْنَا مِن ہوتا اور یہ بات مسلمانوں کے خیال کے مطابق باطل ہے هذِهِ الْأَقْوَالِ كُلِّهَا وَقُلْنَا إِنَّ الْمَسِيحَ کیونکہ ان کا یہ اعتقاد ہے کہ مسیح علیہ السلام تمام باطل فرقوں لا يَمُوتُ إِلَّا بَعْدَ تَكْبِيلِ وَعْدِ الْغَلَبَةِ اور مذہبوں کے مٹنے اور تباہ ہونے کے بعد ہی فوت ہوں الْمُمْتَدَّةِ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كَمَا صَرَحَتْ گے پس اگر ہم ان تمام امور سے رجوع کرلیں اور یہ کہیں کہ ايه وَ جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوقَ الَّذِينَ مسیح علیہ السلام کی وفات اس غلبہ کے وعدے کی تکمیل کے كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ للزمَنَا أَن تُقِرّ بعد ہوگی جس کا عرصہ قیامت تک ممند ہے جیسا کہ آیت : بِأَنَّ الْمَسِيحَ لَا يَمُوتُ إِلَّا بَعْدَ يَوْمِ وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، فَإِنَّ الْوَعْدَ قَدِ امْتَدَّ إِلى يَوْمِ الْقِيِّمَةِ صراحت کر رہی ہے اور یہ بھی ہم پر لازم آتا ہے کہ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُمْكِنُ نُزُولُ الْمَسِيحَ إِلَّا اقرار کریں کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات قیامت کے بَعْدَ وَقُوْعِهِ عَلَى الْوَجْهِ الْأَتَم بعد ہوگی کیونکہ یہ غلبہ کا وعدہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس وَالْأَكْمَلِ، فَمَا تَجِدُ لَهُ مَوْضِعَ قَدّم في وعدہ کے بدرجہ اتم و اکمل پورا ہونے کے بعد ہی آپ کا كِتَابِ الله إِلَّا بَعْد يوم الخشير على نزول ممکن ہوگا اس صورت میں ہمیں کتاب اللہ کی رو سے طَرِيقِ فَرْضِ الْمُحَالِ۔وَلَيْتَ شِعْرِی یوم حشر سے پہلے مسیح کے قدم دھرنے کے لئے کوئی گنجائش نظر أنَّ أَعْدَاء مَا يَقُولُونَ بِأَفْوَاهِهِمْ إِنَّ لفظ نہیں آتی یہ بات علی سبیل الفرض کہی جارہی ہے اور کاش میں مُتَوَفِّيكَ في ايةِ يُعِيسى إلى مُتَوَفِّيكَ سمجھ سکتا کہ ہمارے مخالف یہ بات اپنے منہ سے کس طرح مُؤَكِّرُ فِي الْحَقِيقَةِ، وَلَيْسَ هَذَا الْمَوْضِعُ نکالتے ہیں کہ اس آیت میں لفظ متوفيك در حقیقت مؤخر مَوْضِعَهُ وَلَكِنَّهُمْ لا يُنيتُونَنَا بِأَن لَّو ہے اور موجودہ جگہ اس کی اصل جگہ نہیں لیکن وہ ہمیں یہ نہیں نَرْفَعُ هَذَا اللَّفْظَ مِنْ هَذَا الْمُقَامِ بتا سکتے کہ اگر ہم اس لفظ مُتَوَفِّيكَ کو موجودہ جگہ سے ہٹا دیں