تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 134
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۴ سورة ال عمران وَجْهِ الْأَرْضِ اسْمُهُ عِيسَى بْنُ مَرْيَمَ آئے گا جس کا نام عیسی بن مریم ہوگا اور اس کی وَفَوَّضُوْا تَفْصِيلَ هَذِهِ الْحَقِيقَةِ إِلى اللهِ تَعَالی تفصیل کو انہوں نے خدا تعالیٰ کے سپرد کیا اور واقع وَمَا دَخَلُوا في تَفَاصِيْلِهِ قَبْلَ الْوُقُوعِ، وَ ہونے کے پہلے اس کی تفصیل کے پیچھے نہیں پڑے كَذلِك كَانَتْ سِيْرَتُهُمْ فِي الْأَنْبَاءِ الْمُسْتَقْبِلَةِ جيسا کہ آئندہ زمانہ کی پیش گوئیوں میں ان کی كَمَا هِيَ سُنَّةُ الصَّالِحِينَ۔فَخَلَكَ مِن بَعْدِهِمْ عادت تھی اور سب صالحین کی یہی عادت ہے پھر ان خَلْفٌ أَضَاعُوا سُنّعَهُمْ وَتَرَكُوا سِيرعَهُمْ کے بعد ایسی ذریت آئی جنہوں نے ان کی عادت وَأَوَّلُوا قَوْلَ اللَّهِ وَ رَسُولِهِ إِلى مَا اشْتَهَتْ اور سیرت کو ضائع کر دیا اور قال اللہ قال، الرسول کی أَنْفُسُهُمْ، ثُمَّ أَصَرُوا عَلَيْهِ كَأَنَّهُمْ عَرَفُوا اپنی خواہشوں کے مطابق تاویلیں کر دیں اور پھر ایسا أَسْرَارَ اللهِ يَقِيْنا وَكَأَنَّهُمْ كَانُوا مِن اصرار کیا گویا کہ خدائی اسرار کو انہوں نے یقینا جان لیا اور ان کو پورا یقین حاصل ہے۔( ترجمہ از مرتب) الْمُسْتَيْقِيين حمامة البشری روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۱۹۴ تا ۱۹۸) وَأَنتَ تَعْلَمُ أَنَّ في تَرْتِيبِ هَذِهِ الْآيَةِ اور تو جانتا ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے اس آیت كانت هذه الْمَوَاعِيْدُ كُلُّهَا بَعْدَ وَعْدِ التَّوَن میں جتنے وعدے ہیں وہ توفی کے وعدے کے بعد وَكَانَ وَعْدُ التَّوَفِّي مُقَدَّمًا عَلى كُلِّهَا، وَقَدِ ہیں اور توفی کا وعدہ ان سب سے مقدم ہے اور تمام اتَّفَقَ الْقَوْمُ عَلى أَنهَا وَقَعَتْ بِتَرْتِيْبٍ يُوجَدُ مسلمانوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آیت میں فِي الْآيَةِ، فَلَوْ فَرَضْنَا أَنَّ لَفَظَ التَّوَفِّي مُؤَخِّرُ موجود ترتیب کے مطابق ہی وہ وعدے پورے مِنْ لَّفْظِ الرَّفْعِ، لَلَزِمَنَا أَن تُقِرَّ بِأَنَّ عِیسَی ہوئے ہیں پس اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ لفظ تو ٹی رفع عَلَيْهِ السَّلَامُ قَد تُوُفِّيَ بَعْدَ الرَّفْعِ وَقَبْلَ کے لفظ سے مؤخر ہے تو ہمارے لئے اس بات کا اقرار وُقُوعِ الْمَوَاعِيْدِ الْبَاقِيَّةِ، وهذا مما لا يَعْتَقِدُ کرنا بھی ضروری ٹھہرے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بِهِ أَحَدمْنَ الْمُخَالِفِينَ وَلَوْ قُلْنَا آن لفظ کی وفات رفع کے بعد اور باقی وعدوں کے پورا ہونے التَّوَفِّي مُؤَخِّرٌ مِنْ جُمْلَةِ وَمُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ سے پہلے واقع ہوگئی ہے حالانکہ یہ ایک ایسی بات ہے كَفَرُوا وَمُقَدَّمُ مِنْ وَعْدٍ وَقَعَ في ترتيب جسے مخالفین میں سے بھی کوئی نہیں مانتا اور اگر ہم یہ کہیں الْآيَةِ بَعْدَهَا، لَلَزِمَنَا أَنْ تُقِرّ بِأَنَّ وَفَاةَ عِيسَى که لفظ توفّى، مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا کے جملہ