تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۳) — Page 124
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۱۲۴ سورة ال عمران کرنی چاہئے۔ورنہ یہودیوں کی طرح ایک تحریف ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۹۷ حاشیہ) يعيسى إلى مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى وَ مُطَهَّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ۔یعنی اے عیسی ! میں تجھے وفات دوں گا اور اپنی طرف اٹھاؤں گا اور تیری برینت ظاہر کروں گا اور وہ جو تیرے پیرو ہیں میں قیامت تک ان کو تیرے منکروں پر غالب رکھوں گا۔اس جگہ اس وحی الہی میں عیسی سے مراد میں ہوں اور تابعین یعنی پیروؤں سے مراد میری جماعت ہے۔قرآن شریف میں یہ پیشگوئی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت ہے اور مغلوب قوم سے مراد یہودی ہیں جو دن بدن کم ہوتے گئے۔پس اس آیت کو دوبارہ میرے لئے اور میری جماعت کے لئے نازل کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ مقدر یوں ہے کہ وہ لوگ جو اس جماعت سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہوتے جائیں گے اور تمام فرقے مسلمانوں کے جو اس سلسلہ سے باہر ہیں وہ دن بدن کم ہو کر اس سلسلہ میں داخل ہوتے جائیں گے یا نابود ہوتے جائیں گے جیسا کہ یہودی گھٹتے گھٹتے یہاں تک کم ہو گئے کہ بہت ہی تھوڑے رہ گئے۔ایسا ہی اس جماعت کے مخالفوں کا انجام ہوگا اور اس جماعت کے لوگ اپنی تعداد اور قوت مذہب کے رُو سے سب پر غالب ہو جائیں گے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۹۵،۹۴) قَالَ الله تَعَالَى يُعِيسى إلى مُتَوَفِّيكَ وَ اللہ تعالیٰ نے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ إِلَى إِنِّي رَافِعُكَ إِلَى فَقَدَّمَ التَّوَى عَلَى الرفع كَمَا فرمایا ہے اور لفظ توٹی کو رفع پر مقدم کیا ہے جیسا کہ تم أَنْتُمْ تَقْرَءُ وَنَ۔فَهَذَا حُكْمُ اللهِ وَمَنْ پڑھتے ہو تو یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور جو لوگ ان احکام کے لم يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ ساتھ جو اللہ تعالیٰ نے اتارے ہیں فیصلہ نہیں کرتے وہ کافر الْكَفِرُونَ وَلَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ تُحَرِّفَ ہیں۔کسی شخص کو یہ نہیں چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کلام کو اس كَلمَ اللهِ عَن مَّوَاضِعِهَا وَقَدْ لَعَنَ اللهُ کی جگہوں سے آگے پیچھے کر دے اور جیسا کہ تم جانتے ہو الْمُحَرَّفِينَ كَمَا أَنْتُمْ تَعْلَمُونَ۔اللہ تعالی نے تحریف کرنے والوں پر لعنت کی ہے۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۳۲۱ حاشیه ) (ترجمه از مرتب) اور توفی طبعی موت دینے کو کہتے ہیں۔جیسا کہ صاحب کشاف نے اس آیت کی تفسیر میں یعنی تفسیر ائی مُتَوَفِّيكَ میں لکھا ہے انّی مُبيتُك حتف آنفك - قرآن شریف کی یہ آیت یعنی يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ لے المائدة : ۴۵ و و