تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 47 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 47

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۷ سورة البقرة اگر یہ سوال ہو کہ یہ حالت پیدا کیوں کر ہو؟ تو اس کا جواب اتنا ہی ہے کہ نماز پر مداومت کی جاوے اور وساوس اور شبہات سے پریشان نہ ہو۔ابتدائی حالت میں شکوک وشبہات سے ایک جنگ ضرور ہوتی ہے اس کا علاج یہی ہے کہ نہ تھکنے والے استقلال اور صبر کے ساتھ لگا رہے اور خدا تعالیٰ سے دُعائیں مانگتا رہے۔آخر وہ حالت پیدا ہو جاتی ہے جس کا میں نے ابھی ذکر کیا ہے۔یہ تقوی عملی کا ایک جزو ہے۔اور دوسری جزو اس ( تقوی) کی مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ہے جو کچھ دے رکھا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔عام لوگ رزق سے مراد اشیاء خوردنی لیتے ہیں یہ غلط ہے جو کچھ قومی کو دیا جاوے وہ بھی رزق ہے ، علوم وفنون وغیرہ معارف حقائق عطا ہوتے ہیں یا جسمانی طور پر معاش مال میں فراخی ہو ، رزق میں حکومت بھی شامل ہے اور اخلاق فاضلہ بھی رزق ہی میں داخل ہیں۔یہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں یعنی روٹی میں سے روٹی دیتے ہیں علم میں سے علم اور اخلاق میں سے اخلاق۔علم کا دینا تو ظاہر ہی ہے یہ یا درکھو کہ وہی بخیل نہیں ہے جو اپنے مال میں سے کسی مستحق کو کچھ نہیں ) دیتا بلکہ وہ بھی بخیل ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے علم دیا ہو اور وہ دوسروں کو سکھانے میں مضائقہ کرے۔محض اس خیال سے اپنے علوم وفنون سے کسی کو واقف نہ کرنا کہ اگر وہ سیکھ جاوے گا تو ہماری بے قدری ہو جائے گی یا ہ آمدنی میں فرق آ جائے گا شرک ہے کیونکہ اس صورت میں وہ اس علم یا فن کو ہی اپنا رازق اور خدا سمجھتا ہے۔اسی طرح پر جو اپنے اخلاق سے کام نہیں لیتا وہ بھی بخیل ہے اخلاق کا دینا یہی ہوتا ہے کہ جو اخلاق فاضلہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے دے رکھے ہیں اس کی مخلوق سے ان اخلاق سے پیش آدے۔وہ لوگ اس کے نمونہ کو دیکھ کر خود بھی اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔اخلاق سے اس قدر ہی مراد نہیں ہے کہ زبان کی نرمی اور الفاظ کی نرمی سے کام لے نہیں بلکہ شجاعت، مروّت ، عفت جس قدر قو تیں انسان کو دی گئی ہیں دراصل سب اخلاقی قوتیں ہیں ان کا بر محل استعمال کرنا ہی ان کو اخلاقی حالت میں لے آتا ہے۔ایک موقع مناسب پر غضب کا استعمال بھی اخلاقی رنگ حاصل کر لیتا ہے۔یہ نہیں کہ انجیل کی تعلیم کی طرح (جو ) ایک ہی پہلو اپنے اندر رکھتی ہے کہ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسری پھیر دو۔یہ اخلاق نہیں ہے اور نہ یہ تعلیم حکمت کے اصول پر مبنی ہو سکتی (ہے)۔اگر ایسا ہو تو تمام فوجوں کا موقوف کر دینا اور ہر قسم کے آلات حرب کو توڑ دینا لازم آئے گا اور مسیحی دنیا کو بطور ایک خادم کے رہنا پڑے گا کیونکہ اگر کوئی کرتہ مانگے تو چونہ بھی دینا پڑے گا ایک کوس بیگار لے جانا چاہے تو دو کوس جانے کا حکم ہے۔پھر عیسائی لوگوں کو کس قدر مشکلات پیش آئیں اگر ،