تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 46
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۴۶ سورة البقرة بھی جاتا ہے جب انسان کھڑا ہوتا ہے اور تحمید و تسبیح کرتا ہے اُس کا نام قیام رکھا ہے اب ہر ایک شخص جانتا ہے ر کہ حمد وثنا کے مناسب حال قیام ہی ہے۔بادشاہوں کے سامنے جب قصائد سنائے جاتے ہیں تو آخر کھڑے ہو کر ہی پیش کرتے ہیں۔ادھر تو ظاہری طور پر قیام رکھا ہی ہے اور زبان سے حمد و ثنا بھی رکھی ہے۔مطلب اس کا یہی ہے کہ روحانی طور پر بھی اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑا ہو۔حمد ایک بات پر قائم ہو کر کی جاتی ہے جو شخص ا مصدق ہو کر کسی کی تعریف کرتا ہے تو وہ ایک رائے پر قائم ہو جاتا ہے اس الحمد للہ کہنے والے کے واسطے یہ ضروری ہوا کہ وہ بچے طور پر الحمد للہ اسی وقت کہہ سکتا ہے کہ پورے طور پر اس کو یقین ہو جائے کہ جمیع اقسام محامد کے اللہ تعالیٰ ہی کے لئے ہیں۔جب یہ بات دل میں انشراح کے ساتھ پیدا ہوگئی تو یہ روحانی قیام ہے کیونکہ دل اس پر قائم ہو جاتا ہے۔اور وہ سمجھا جاتا ہے کہ کھڑا ہے۔حال کے موافق کھڑا ہو گیا تا کہ روحانی قیام نصیب ہو۔پھر رکوع میں سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتا ہے قاعدہ کی بات ہے کہ جب کسی کی عظمت مان لیتے ہیں تو اس کے حضور جھکتے ہیں عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کے لئے رکوع کرے۔پس سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم زبان سے کہا اور حال سے جھکنا دکھایا۔یہ اس قول کے ساتھ حال دکھایا۔پھر تیسرا قول ہے سُبحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلى، أَفْعَلُ التَّفْضِيل ہے یہ بالذات سجدہ کو چاہتا ہے۔اس لئے اس کے ساتھ حالی تصویر سجدہ میں گرے گا۔اور اس اقرار کے مناسب حال ہیت فی الفور اختیار کر لی۔اس قال کے ساتھ تین حال جسمانی ہیں ایک تصویر اس کے آگے پیش کی ہے ہر ایک قسم کا قیام بھی کرتا ہے زبان جو جسم کا ٹکڑا ہے اس نے بھی کہا اور و ہ شامل ہو گئی۔تیسری چیز اور ہے وہ اگر شامل نہ ہو تو نماز نہیں ہوتی وہ کیا ہے؟ وہ قلب ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ قلب کا قیام ہو اور اللہ تعالیٰ اس پر نظر کر کے دیکھے کہ در حقیقت وہ حمد بھی کرتا ہے اور کھڑا بھی ہے۔اور روح بھی کھڑا ہوا حمد کرتا ہے۔جسم ہی نہیں بلکہ روح بھی کھڑا ہے اور جب سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیم کہتا ہے تو دیکھے کہ اتنا ہی نہیں کہ صرف عظمت کا اقرار ہی کیا ہے نہیں بلکہ ساتھ ہی جھکا بھی ہے اور اس کے ساتھ ہی روح بھی جھک گیا ہے پھر تیسری نظر میں خدا کے حضور سجدہ میں گرا ہے اس کی علق شان کو ملاحظہ میں لا کر اس کیساتھ ہی دیکھے کہ روح بھی الوہیت کے آستانہ پر گرا ہوا ہے۔غرض یہ حالت جب تک پیدا نہ ہولے اس وقت تک مطمئن نہ ہو کیونکہ یقیمُونَ الصَّلوة کے یہی معنی ہیں۔۔