تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 38
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۳۸ سورة البقرة دیکھنے پر ایمان موقوف رکھتے تو ایک ذرہ بزرگی ان کی ثابت نہ ہوتی اور عوام میں سے شمار کئے جاتے اور خدائے تعالیٰ کے مقبول اور پیارے بندوں میں داخل نہ ہو سکتے کیونکہ جن جن لوگوں نے نشان مانگا خدائے تعالیٰ نے ان پر عتاب ظاہر کیا اور در حقیقت ان کا انجام اچھا نہ ہوا اور اکثر وہ بے ایمانی کی حالت میں ہی مرے۔غرض خدا تعالیٰ کی تمام کتابوں سے ثابت ہوتا ہے کہ نشان مانگنا کسی قوم کے لئے مبارک نہیں ہوا اور جس نے نشان مانگا وہی تباہ ہوا۔انجیل میں بھی حضرت مسیح فرماتے ہیں کہ اس وقت کے حرام کار مجھ سے نشان مانگتے ہیں ان کو کوئی نشان دیا نہیں جائے گا۔میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ بالطبع ہر ایک شخص کے دل میں اس جگہ یہ سوال پیدا ہوگا کہ بغیر کسی نشان کے حق اور باطل میں انسان کیوں کر فرق کر سکتا ہے اور اگر بغیر نشان دیکھنے کے کسی کو منجانب اللہ قبول کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس قبول کرنے میں دھوکا ہو۔اس کا جواب وہی ہے جو میں لکھ چکا ہوں کہ خدائے تعالیٰ نے ایمان کا ثواب اکثر اسی امر سے مشروط کر رکھا ہے کہ نشان دیکھنے سے پہلے ایمان ہو اور حق اور باطل میں فرق کرنے کے لئے یہ کافی ہے کہ چند قرائن جو وجہ تصدیق ہو سکیں اپنے ہاتھ میں ہوں اور تصدیق کا پلہ تکذیب کے پلہ سے بھاری ہو۔مثلاً حضرت صدیق اکبر ابوبکر رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے تو انہوں نے کوئی معجزہ طلب نہیں کیا اور جب پوچھا گیا کہ کیوں ایمان لائے تو بیان کیا کہ میرے پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا امین ہونا ثابت ہے اور میں یقین رکھتا ہوں کہ انہوں نے کبھی کسی انسان کی نسبت بھی جھوٹ کو استعمال نہیں کیا چہ جائیکہ خدا تعالی پر جھوٹ باندھیں ! ایسا ہی اپنے اپنے مذاق پر ہر یک صحابی ایک، ایک اخلاقی یا تعلیمی فضیلت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دیکھ کر اور اپنی نظر دقیق سے اس کو وجہ صداقت ٹھہرا کر ایمان لائے تھے اور ان میں سے کسی نے بھی نشان نہیں مانگا تھا اور کا ذب اور صادق میں فرق کرنے کے لئے ان کی نگاہوں میں یہ کافی تھا کہ آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تقویٰ کے اعلیٰ مراتب پر ہیں۔اپنے منصب کے اظہار میں بڑی شجاعت اور استقامت رکھتے ہیں اور جس تعلیم کو لائے ہیں وہ دوسری سب تعلیموں سے صاف تر اور پاک تر اور سراسر نور ہے اور تمام اخلاق حمیدہ میں بے نظیر ہیں اور الہی جوش ان میں اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور صداقت ان کے چہرہ پر برس رہی ہے۔پس انہیں باتوں کو دیکھ کر انہوں نے قبول کر لیا کہ وہ در حقیقت خدائے تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اس جگہ یہ نہ سمجھا جائے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے معجزات ظاہر نہیں ہوئے بلکہ تمام انبیاء سے زیادہ ظاہر ہوئے لیکن عادت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اوائل میں کھلے کھلے معجزات اور نشان مخفی رہتے ہیں تا صادقوں کا صدق اور کا ذبوں کا اور