تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 37
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷ سورة البقرة تقویٰ کے قلعہ میں ہوتا ہے وہ ان سے محفوظ ہے اور جو اس سے باہر ہے وہ ایک ایسے جنگل میں ہے جو درندہ جانوروں سے بھرا ہوا ہے۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۵-۳۶) اللہ تعالیٰ نے متقیوں کے لئے چاہا ہے کہ ہر دولڈ تیں اُٹھا ئیں۔بعض وقت دنیوی لذات آرام اور طیبات کے رنگ میں ، بعض وقت عسرت اور مصائب ہیں، تا کہ اُن کے دونوں اخلاق کامل نمونہ دکھا سکیں۔بعض اخلاق طاقت میں اور بعض مصائب میں کھلتے ہیں۔ہمارے نبی کریم کو یہ دونوں باتیں میسر آئیں۔سو جس قدر ہم آپ کے اخلاق پیش کر سکیں گے کوئی اور قوم اپنے کسی نبی کے اخلاق پیش نہ کر سکے گی۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۳۷) اللہ تعالیٰ نے یہ جو فرمایا کہ نَحْنُ أَوْلِيَؤُكُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْآخِرَةِ (حم السجدة :۳۲) کہ ہم اس دنیا میں بھی اور آئندہ بھی متقی کے ولی ہیں۔سو یہ آیت بھی تکذیب میں، اُن نادانوں کی ہے جنہوں نے اس زندگی میں نزول ملائکہ سے انکار کیا۔اگر نزع میں نزول ملائکہ تھا تو حیات اللہ نیا میں خدا تعالیٰ کیسے ولی ہوا۔سو یہ ایک نعمت ہے کہ ولیوں کو خدا کے فرشتے نظر آتے ہیں۔آئندہ کی زندگی محض ایمانی ہے لیکن ایک متقی کو آئندہ کی زندگی نہیں دکھلائی جاتی ہے۔اُنہیں اسی زندگی میں خدا ملتا ہے، نظر آتا ہے، اُن سے باتیں کرتا ہے۔سو اگر ایسی صورت کسی کو نصیب نہیں تو اُس کا مرنا اور یہاں سے چلے جانا نہایت خراب ہے۔ایک ولی کا قول ہے کہ جس کو ایک خواب سچا عمر میں نصیب نہیں ہوا اس کا خاتمہ خطرناک ہے جیسے کہ قرآن مومن کے یہ نشان ٹھہراتا ہے۔سنو جس میں یہ نشان نہیں اُس میں تقویٰ نہیں۔سو ہم سب کی یہ دعا چاہئے کہ یہ شرط ہم میں پوری ہو۔اللہ تعالی کی طرف سے الہام، خواب، مکاشفات کا فیضان ہو کیونکہ یہ مومن کا خاصہ ہے سو یہ ہونا چاہئے۔رپورٹ جلسہ سالانه ۱۸۹۷ء صفحه ۳۸،۳۷) الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ ایمان لانے پر ثواب اسی وجہ سے ملتا ہے کہ ایمان لانے والا چند قرائن صدق کے لحاظ سے ایسی باتوں کو قبول کر لیتا ہے کہ وہ ہنوز مخفی ہیں جیسا کہ اللہ جل شانہ نے مومنوں کی تعریف قرآن کریم میں فرمائی ہے کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ یعنی ایسی بات کو مان لیتے ہیں کہ وہ ہنوز در پردہ غیب ہے جیسا کہ صحابہ کرام نے ہمارے سید و مولیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لیا اور کسی نے نشان نہ مانگا اور کوئی ثبوت طلب نہ کیا اور گو بعد اسکے اپنے وقت پر بارش کی طرح نشان بر سے اور معجزات ظاہر ہوئے لیکن صحابہ کرام ایمان لانے میں معجزات کے محتاج نہیں ہوئے اور اگر وہ معجزات کے