تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 387
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۸۷ سورة البقرة لَا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي اَيْمَانِكُمْ وَلَكِن يُؤَاخِذْ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبِكُمْ وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيم۔٢٢٦ انسان کے دل کے تخیلات جو بے اختیار اٹھتے رہتے ہیں اس کو گناہ گار نہیں کرتے بلکہ عند اللہ مجرم ٹھہر جانے کی تین ہی قسم ہیں (۱) اوّل یہ کہ زبان پر نا پاک کلمے جو دین اور راستی اور انصاف کے برخلاف ہوں جاری ہوں (۲) دوسرے یہ کہ جوارح یعنی ظاہری اعضاء سے نافرمانی کے حرکات صادر ہوں (۳) تیسرے یہ کہ دل نافرمانی پر عزیمت کرے یعنی پختہ ارادہ کرے کہ فلاں فعلِ بدضرور کروں گا۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ولكن يُؤَاخِذْ كُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ۔یعنی جن گناہوں کو دل اپنی عزیمت سے حاصل کرے ان گناہوں کا مواخذہ ہوگا مگر مجرد خطرات پر مواخذہ نہیں ہوگا کہ وہ انسانی فطرت کے قبضہ میں نہیں ہیں خدائے رحیم ہمیں ان خیالات پر نہیں پکڑتا جو ہمارے اختیار سے باہر ہیں۔ہاں اس وقت پکڑتا ہے کہ جب ہم ان خیالات کی زبان سے یا ہاتھ سے یا دل کی عزیمت سے پیروی کریں بلکہ بعض وقت ہم ان خیالات سے ثواب حاصل کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ نے صرف قرآن کریم میں ہاتھ پیر کے گناہوں کا ذکر نہیں کیا بلکہ کان اور آنکھ اور دل کے گناہوں کا بھی ذکر کیا ہے جیسا کہ وہ اپنے پاک کلام میں فرماتا ہے: ان السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أوليكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا ) بَنِي إِسْراويل : ۳۷) یعنی کان اور آنکھ اور دل جو ہیں ان سب سے باز پرس کی جائے گی۔اب دیکھو! جیسا کہ خدا تعالیٰ نے کان اور آنکھ سے گناہ کا ذکر کیا ایسا ہی دل کے گناہ کا بھی ذکر کیا مگر دل کا گناہ خطرات اور خیالات نہیں ہیں کیونکہ وہ تو دل کے بس میں نہیں ہیں۔بلکہ دل کا گناہ پختہ ارادہ کر لینا ہے۔صرف ایسے خیالات جو انسان کے اپنے اختیار میں نہیں گناہ میں داخل نہیں۔ہاں اس وقت داخل ہو جائیں گے جب ان پر عزیمت کرے اور ان کے ارتکاب کا ارادہ کر لیوے ایسا ہی اللہ جل شانہ اندرونی گناہوں کے بارے میں ایک اور جگہ فرماتا ہے : قُلْ إِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّيَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ (الاعراف: ۳۴) یعنی خدا نے ظاہری اور اندرونی گناہ دونوں حرام کر نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۲۸،۴۲۷) لِلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِنْ نِسَابِهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۚ فَإِنْ فَاءُ وَ فَإِنَّ اللَّهَ غفور رحيم (۲۲۷) جولوگ اپنی بیویوں سے جُدا ہونے کے لئے قسم کھا لیتے ہیں وہ طلاق دینے میں جلدی نہ کریں بلکہ چار