تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 374 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 374

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۷۴ سورة البقرة دکھلائے۔اس میں حکمت یہ ہے کہ مدافعت بقدر حملہ ، دشمن ہوتی ہے پس جس قدر انسان پرستوں کو شرک پر غلق ہے وہ غلو بھی انتہا تک پہنچ گیا ہے۔اس لئے اب خدا آپ لڑے گا وہ انسانوں کو کوئی تلوار نہیں دے گا اور نہ کوئی جہاد ہو گا ہاں اپنا ہاتھ دکھلائے گا۔فإِذَا نَزَلَ أَحَدٌ مِنْهُمْ بِجسمه پس ان میں سے جب کوئی اپنے مادی جسم کے ساتھ بِحِسْمِهِ (حقیقة الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۵۸) الْعُنْصُرِي فَلَزِمَ أَنْ يَتْرُكَ مَقَامَه خَالِيًا نازل ہو تو لازم آئے گا کہ وہ اپنی جگہ کو خالی چھوڑ آئے ويَخْرُجَ مِن صَلِّهِ وَيَبْعُدَ عَنْ مَقَامِ اور اپنی صف سے باہر نکل جائے اور اپنے مقام تسبیح یا تَسْبِيْحِهِ أَوْ رُكُوعِهِ أَوْ سَجَدَتِهِ الَّذِئ رکوع یا سجود سے دور ہو جائے جس پر اللہ نے اُسے قائم أَقَامَهُ اللهُ عَلَيْهِ، وَيَنْزِلُ إِلَى الْأَرْضِ فرمایا ہے اور مسافروں کی طرح زمین پر نازل ہو اور كَالْمُسَافِرِينَ، وَمَا نَرَى فِي الْقُرْآنِ أَثَرًا ہم قرآن میں اس تعلیم کا کوئی شائبہ تک نہیں دیکھتے۔مِنْ هَذَا التَّعْلِيمِ، بَلْ جَعَلَ اللهُ نُزُول بلکہ اللہ نے فرشتوں کے نزول کو اپنی ذات کے نزول کی الْمَلَائِكَةِ كَنْزُولِ نَفْسِهِ وَجَعَلَ فَجِيْنَهُمْ طرح قرار دیا ہے اور اُن کی آمد کو اپنی ذات کی آمد كَمَعِيْءٍ ذَاتِهِ۔أَلَا تَنْظُرُ إلى هذه الآية کی طرح بنایا ہے۔کیا تو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی أَعْنِي قَوْله تَعَالى وَ جَاءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا - طرف نہیں دیکھتا وَ جَاءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا ، اور اللہ وَقَوْله عَزَّ وَجَلَّ هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا اَنْ عزوجان کے قول هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ فِي ط ** * يَأْتِيَهُمُ اللهُ فِي ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَامِ وَالْمَلَبِكَةُ ظُلَلٍ مِنَ الْغَمَاءِ وَالْمَلائِكَةُ وَقُضِيَ الْأَمْرُ ۖ وَ إِلَى اللَّهِ وَقُضِيَ الْأَمْرُ وَ إِلَى اللهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ - تَرْجَعُ الْأُمُورُ۔۔طرف نہیں دیکھتا؟ اور یہاں ایک وَهُهُنَا نُكْتَةٌ أُخْرَى وَهِيَ أَنَّ اللهَ إِذَا نَزَلَ اور نکتہ بھی ہے اور وہ یہ کہ اللہ جب اپنے فرشتوں کے إلَى الْأَرْضِ مَعَ مَلا يُكَتِهِ فَلَا بُدَّ مِنْ أَن ساتھ زمین کی طرف نزول فرماتا ہے تو ضروری ہے کہ يَنزِلَ الْمَلائِكَةُ كُلُّهُمْ، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تمام کے تمام فرشتے بھی اُتریں کیونکہ فرشتے اللہ کی فوج جُنُدُ اللَّهِ فَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتَخَلَّفَ أَحَدٌ مِنْهُمْ ہیں۔اس لئے جائز نہیں کہ ان میں سے کوئی رب العرش * اور تیرا رب آئے گا اور صف بہ صف فرشتے بھی۔(الفجر : ۲۳) * * کیا وہ محض یہ انتظار کر رہے ہیں کہ اللہ بادلوں کے سایوں میں اُن کے پاس آئے اور فرشتے بھی اور معاملہ نپٹا دیا جائے اور اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹائے جاتے ہیں۔(البقرۃ: ۲۱۱)