تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 358
۳۵۸ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام (مغفرت ) لغت میں ایسے ڈھانکنے کو کہتے ہیں جس سے انسان آفات سے محفوظ رہے۔اسی وجہ سے مغفر جوخود کے معنی رکھتا ہے اسی میں سے نکالا گیا ہے اور مغفرت مانگنے سے یہ مطلب ہوتا ہے کہ جس بلا کا خوف ہے یا جس گناہ کا اندیشہ ہے خدا تعالیٰ اس بلا یا اس گناہ کو ظاہر ہونے سے روک دے اور ڈھانکے رکھے۔(نور القرآن، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۳۵۶،۳۵۵) انسان کو خدا کی ضرورت ہر حال میں لاحق رہتی ہے اس لئے ضروری ہوا کہ خدا سے طاقت طلب کرتے رہیں اور یہی استغفار ہے۔اصل حقیقت تو استغفار کی یہ ہے پھر اس کو وسیع کر کے ان لوگوں کے لئے کیا گیا کہ جو گناہ کرتے ہیں کہ ان کے بڑے نتائج سے محفوظ رکھا جاوے لیکن اصل یہ ہے کہ انسانی کمزوریوں سے بیچا یا جاوے۔پس جو شخص انسان ہو کر استغفار کی ضرورت نہیں سمجھتاوہ بے ادب دہر یہ ہے۔الحکم جلد 4 نمبر ۱۰ مورخه ۱۷ مارچ ۱۹۰۲ صفحه ۵) استغفار کے اصل معنے تو یہ ہیں کہ یہ خواہش کرنا کہ مجھ سے کوئی گناہ نہ ہو یعنی میں معصوم رہوں اور دوسرے معنے جو اس سے نیچے درجے پر ہیں کہ میرے گناہ کے بدنتائج جو مجھے ملنے ہیں میں اُن سے محفوظ البدر جلد نمبر ا مورخه ۱۹ /اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۷) رہوں۔غفلت غیر معلوم اسباب سے ہے بعض وقت انسان نہیں جانتا اور ایک دفعہ ہی زنگ اور تیرگی اس کے قلب پر آجاتی ہے اس لئے استغفار ہے اس کے یہ معنی ہیں کہ وہ زنگ اور تیرگی نہ آوے۔عیسائی لوگ اپنی بیوقوفی سے اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے سابقہ گناہوں کا ثبوت ملتا ہے۔اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ گناہ صادر نہ ہوں ورنہ اگر استغفار سابقہ صادر شدہ گناہوں کی بخشش کے معنی رکھتا ہے تو وہ بتلا دیں کہ آئندہ گناہوں کے نہ صادر ہونے کے معنوں میں کونسا لفظ ہے۔غفر اور کفر کے ایک ہی معنے ہیں تمام انبیاء اس کے محتاج تھے جتنا کوئی استغفار کرتا ہے اتنا ہی معصوم ہوتا ہے اصل معنے یہ ہیں کہ خدا نے اُسے بچایا۔معصوم کے معنے مستغفر کے ہیں۔البدر جلد نمبر ۷ مورخه ۱۲ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۵۲) گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے۔استغفار کیا ہے؟ یہی جو گناہ صادر ہو چکے ہیں ان کے بد ثمرات سے خدا محفوظ رکھے اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوہ انسان میں موجود ہیں ان کے صدور کا ہی وقت نہ آوے اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر (البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۶) راکھ ہوجاویں۔