تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 354 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 354

۳۵۴ سورة البقرة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سخت گناہ ہوتا ہے حالانکہ شریعت اسے گناہ قرار ہی نہیں دیتی۔۔۔۔ایک جاہل تو ان کو شریعت کے مخالف قرار دے گا۔اور اعتراض کرے گا مگر وہ اس کی بے وقوفی ہوگی وہ بھی اصل میں ایک شریعت ہی ہے جب سے دنیا چلی آئی ہے یہ دونوں باتیں ساتھ ساتھ چلی آتی ہیں یعنی ایک تو ظاہر شریعت جو کہ دنیا کہ امور کے واسطے ہوتی ہے اور ایک وہ امور جو کہ از روئے کشف والہام کے ایک مامور پر نازل ہوتے ہیں اور اسے حکم ہوتا ہے کہ یہ کرو۔بظاہر گووہ شریعت کے مخالف ہو مگر اصل میں بالکل مخالف نہیں ہوتا مثلا دیکھ لو کہ از روئے شریعت تو دیدہ دانستہ اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالنا منع ہے وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى اللَّهلگا مگر ایک شخص کو حکم که تو در یا میں جا اور چیر کر نکل جا تو کیا وہ اس کی نافرمانی کرے گا ؟ بھلا بتلاؤ تو سہی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا عمل کہ بیٹے کو ذبح کرنے لگ گئے کونسا شریعت کے مطابق تھا ؟ کیا یہ کہیں شریعت میں لکھا ہے کہ خواب آوے تو سچ مچ بیٹے کو اُٹھ کر ذبح کرنے لگ جاوے؟ مگر وہ ایسا عمل تھا کہ اُن کے قلب نے اسے قبول کر سکے تعمیل کی۔پھر دیکھو موسٹی کی ماں تو نبی بھی نہ تھی مگر اس نے خواب کی رو سے موسیٰ کو دریا میں ڈال دیا۔شریعت کب اجازت دیتی ہے کہ اس طرح ایک بچہ کو پانی میں پھینک دیا جاوے۔بعض امور شریعت سے وراء الوری ہوتے ہیں اور وہ اہل حق سمجھتے ہیں جو کہ خاص نسبت خدا تعالیٰ سے رکھتے ہیں اور وہی ان کو بجالاتے ہیں۔البدر جلد ۲ نمبر ۲۲ مورخه ۱۹ جون ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۷۱،۱۷۰) شریعت ظاہری وہ ہے کہ جس میں امور دنیا کا پورا پورا انصرام اہتمام کیا گیا ہے تا کہ اس کے انتظام میں بلحاظ ظاہر کے کوئی بات خلاف طریق ظاہر نہ ہو۔شریعت باطنی وہ ہے کہ بعض امور ظاہری جو بادی النظر میں کامل طور پر ظہور پذیر نہیں ہو سکتے الہام و کشوف سے ظاہر اور رواج دیئے جاتے ہیں شریعت ظاہری کی طرح اہل کشف پر احکام نازل ہوتے ہیں جو امور بعض امور کے حقائق پر مشتمل ہوتے ہیں اور جب تک ملہم ان کی بجا آوری میں بدل و جان کوشش نہ کرے ممکن نہیں کہ اندرونی اصلاح کماحقہ حقیقتاً ہو سکے اور یہ امور جو اہلِ کشف پر نازل ہوتے ہیں شریعت کے دراصل مخالف نہیں ہوتے بلکہ بعض حقائق کی تکمیل ہوتی ہے مثلاً کہا جاتا ہے کہ وَلَا تُلْقُوا بِايْدِ يْكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ جان بوجھ کر اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالومگر ایک شخص کو حکم ہوتا ہے کہ تو اپنے بچے کو دریا میں ڈال دے جیسے حضرت موسی کی ماں کو حکم ہوا۔یا در یا چیر کر نکل جا۔جیسے خود موسی علیہ السلام کو یا مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کہ اپنے بیٹے کو ذبح کر اور آپ کرنے لگ گئے۔یہ امور شریعت سے وراء الوری ہوتے ہیں جن کو اہلِ حق ہی سمجھتے ہیں اور وہی ان کو بجالاتے ہیں۔الحکم جلدے نمبر ۲۳ مورخه ۲۴ رجون ۱۹۰۳ صفحه ۱۵)