تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 338
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اور مقصد مُراد کو پورا کرنے والی ثابت ہو جاوے۔۳۳۸ پیداست ندا را که بلند جنابت سورة البقرة مدت دراز تک انسان کو دُعاؤں میں لگے رہنا پڑتا ہے آخر خدا تعالیٰ ظاہر کر دیتا ہے میں نے اپنے تجربہ سے دیکھا ہے اور گذشتہ راست بازوں کا تجربہ بھی اس پر شہادت دیتا ہے کہ اگر کسی معاملہ میں دیر تک خاموشی کرے تو کامیابی کی اُمید ہوتی ہے لیکن جس امر میں جلد جواب مل جاتا ہے وہ ہونے والا نہیں ہوتا۔عام طور پر ہم دنیا میں دیکھتے ہیں کہ ایک سائل جب کسی کے دروازہ پر مانگنے کے لئے جاتا ہے اور نہایت عاجزی اور اضطراب سے مانگتا ہے اور کچھ دیر تک جھڑکیاں کھا کر بھی اپنی جگہ سے نہیں ہٹتا اور سوال کئے ہی جاتا ہے تو آخر اس کو بھی کچھ شرم آ ہی جاتی ہے خواہ کتنا ہی بخیل کیوں نہ ہو پھر بھی کچھ نہ کچھ سائل کو دے ہی دیتا ہے تو کیا دُعا کرنے والے کو کم از کم ایک معمولی سائل جتنا استقلال بھی نہیں ہونا چاہئیے ؟ اور خدا تعالیٰ جو کریم ہے اور حیارکھتا ہے جب دیکھتا ہے کہ اس کا عاجز بندہ ایک عرصہ سے اس کے آستانہ پر گرا ہوا ہے تو کبھی اس کا انجام بد نہیں کرتا۔اگر انجام بد ہو تو اپنے ظن سے ہوتا ہے جیسے ایک حاملہ عورت چار پانچ ماہ کے بعد کہے کہ اب بچہ کیوں پیدا نہیں ہوتا اور اس خواہش میں کوئی مسقط دو کھالے تو اُس وقت کیا بچہ پیدا ہوگا یا ایک مایوسی بخش حالت میں وہ خود مبتلا ہوگی۔اسی طرح جو شخص قبل از وقت جلدی کرتا ہے وہ نقصان ہی اُٹھاتا ہے اور نہ نرا نقصان بلکہ ایمان کو بھی صدمہ پہنچاتا ہے بعض ایسی حالت میں دہریہ ہو جاتے ہیں ہمارے گاؤں میں ایک نجار تھا اس کی عورت بیمار ہوئی اور آخر وہ مرگئی اُس نے کہا کہ اگر خدا ہوتا تو میں نے اتنی دُعائیں کی تھیں وہ قبول ہو جاتیں اور میری عورت نہ مرتی اور اس طرح پر وہ دہر یہ ہو گیا۔لیکن سعید اگر اپنے صدق اور اخلاص سے کام لے تو اُس کا ایمان بڑھتا ہے اور سب کچھ ہو بھی جاتا ہے زمین کی دولتیں خدا تعالیٰ کے آگے کیا چیز ہیں وہ ایک دم میں سب کچھ کر سکتا ہے کیا دیکھا نہیں کہ اس نے اس قوم کو جس کو کوئی جانتا بھی نہ تھا بادشاہ بنادیا اور بڑی بڑی سلطنتوں کو ان کا تابع فرمان بنادیا اور غلاموں کو بادشاہ بنا دیا۔انسان اگر تقویٰ اختیار کرے اور خدا تعالیٰ کا ہو جاوے تو دنیا میں اعلیٰ درجہ کی زندگی ہو مگر شرط یہی ہے کہ صادق اور جوانمرد ہو کر دکھائے دل متزلزل نہ ہو اور اس میں کوئی آمیزش ریا کاری اور شرک کی نہ ہو۔ابراہیم علیہ السلام میں وہ کیا بات تھی جس نے اس کو ابو السملت اور ابوالحنفا قرار دیا اور خدا تعالیٰ نے اُس کو اس قدر عظیم الشان برکتیں دیں کہ شمار میں نہیں آسکتیں ، وہ یہی صدق اور اخلاص تھا۔دیکھو! ابراہیم علیہ السلام نے بھی ایک دُعا کی تھی کہ اُس کی اولاد میں