تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 334
اور ۳۳۴ تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة البقرة ڈرے جو امن کے وقت خدا کو نہیں بھلاتا خدا اسے مصیبت کے وقت میں نہیں بھلاتا اور جو امن کے زمانے کو عیش میں بسر کرتا ہے اور مصیبت کے وقت دُعائیں کرنے لگتا ہے تو اس کی دُعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔جب عذاب الہی کا نزول ہوتا ہے تو تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے پس کیا ہی سعید وہ ہے جو عذاب الہی کے نزول سے پیشتر دُعا میں مصروف رہتا ہے۔صدقات دیتا ہے اور امر الہی کی تعظیم اور خلق اللہ پر شفقت کرتا ہے۔اپنے اعمال کو سنوار کر بجالاتا ہے۔یہی ہیں جو سعادت کے نشان ہیں درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے اسی طرح سعید اور شقی کی شناخت بھی آسان ہوتی ہے۔(البدر جلد نمبر ۵ ، ۶ مورخه ۲۸ /نومبر و ۵ /دسمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۳۸) مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کا خدا دعاؤں کا سنے والا ہے۔کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایک طالب نہایت رفت اور درد کے ساتھ دُعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعاؤں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے اس کا ستر کیا ہے؟ اس میں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اول تو جس قدر امور دنیا میں ہوتے ہیں ان میں ایک قسم کی تدریج پائی جاتی ہے۔دیکھو ایک بچہ کو انسان بننے کے لئے کس قدر مر حلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں ایک بیج کا درخت بننے کے لئے کس قدر توقف ہوتا ہے۔اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امور کا نفاذ بھی تدریجا ہوتا ہے۔دوسرے اس توقف میں یہ مصلحت الہی ہوتی ہے کہ انسان اپنے عزم اور عقد ہمت میں پختہ ہو جاوے اور معرفت میں استحکام اور رسوخ ہو۔یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اُسی قدر اُس کو زیادہ محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا (الم نشرح :) - اسی لئے فرمایا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۴۵ مورخہ ۷ اردسمبر ۱۹۰۲ صفحه ۲) اگر قبولیت دعا نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ کی ہستی پر بہت سے شکوک پیدا ہو سکتے تھے اور ہوتے۔اور حقیقت میں جولوگ قبولیت دعا کے قائل نہیں ہیں ان کے پاس اللہ تعالیٰ کی ہستی کی کوئی دلیل ہی نہیں ہے۔میرا تو یہ مذہب ہے کہ جو دعا اور اُس کی قبولیت پر ایمان نہیں لاتا وہ جہنم میں جائے گا۔وہ خدا ہی کا قائل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کی شناخت کا یہی طریق ہے کہ اس وقت تک دُعا کرتا رہے جب تک خدا اُس کے دل میں یقین نہ بھر دے اور آنا الحق کی آواز اُس کو نہ آ جاوے۔اس میں شک نہیں کہ اس مرحلہ کو طے کرنے اور اس مقام تک پہنچنے کے لئے بہت سی مشکلات ہیں اور