تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 317
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۷ سورة البقرة اس کے آگے پیچ ہیں۔کلام ایک ایسی شے ہے جو کہ دیدار کے قائم مقام ہے۔(البدرجلد ۳ نمبر ۲۹ مورخہ یکم اگست ۱۹۰۴ صفحه ۳) جب میرا بندہ میری بابت سوال کرے پس میں بہت ہی قریب ہوں میں پکارنے والے کی دُعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ پکارتا ہے۔بعض لوگ اُس کی ذات پر شک کرتے ہیں۔پس میری ہستی کا نشان یہ ہے کہ تم مجھے پکارو اور مجھ سے مانگو۔میں تمہیں پکاروں گا اور جواب دوں گا۔اور تمہیں یاد کروں گا۔اگر یہ کہو کہ ہم پکارتے ہیں پر وہ جواب نہیں دیتا تو دیکھو کہ تم ایک جگہ کھڑے ہو کر ایک ایسے شخص کو جو تم سے بہت دور ہے پکارتے ہو اور تمہارے اپنے کانوں میں کچھ نقص ہے۔وہ شخص تو تمہاری آواز سن کر تم کو جواب دے گا۔مگر جب وہ دُور سے جواب دے گا تو تم باعث بہرہ پن کے سن نہیں سکو گے۔پس بجوں جوں تمہارے درمیانی پر دے اور حجاب اور ڈوری دُور ہوتی جاوے گی تو تم ضرور آواز کو سنو گے۔جب سے دنیا کی پیدائش ہوئی ہے اس بات کا ثبوت چلا آتا ہے کہ وہ اپنے خاص بندوں سے ہم کلام ہوتا ہے۔اگر ایسا نہ ہوتا تو رفتہ رفتہ بالکل یہ بات نابود ہو جاتی کہ اُس کی کوئی ہستی ہے بھی پس خدا کی ہستی کے ثبوت کا سب سے زبر دست ذریعہ یہی ہے کہ ہم اُس کی آواز کو سن لیں۔یاد یدار یا گفتار۔پس آج کل کا گفتار قائم مقام ہے دیدار کا۔ہاں جب تک خدا کے اور اس سائل کے درمیان کوئی حجاب ہے اُس وقت تک ہم سن نہیں سکتے جب درمیانی پردہ اُٹھے جاوے گا تو اُس کی آواز سنائی دے گی۔الحکم جلد ۸ نمبر ۳۹،۳۸ مورخہ ۱۰۔۱۷ رنومبر ۱۹۰۴ صفحه ۷،۶) دُعا خدا تعالیٰ کی ہستی کا زبردست ثبوت ہے چنانچہ خدا تعالیٰ ایک جگہ فرماتا ہے: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِى عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ۔یعنی جب میرے بندے تجھ سے سوال کریں کہ خدا کہاں ہے اور اس کا کیا ثبوت ہے تو کہہ دو کہ وہ بہت ہی قریب ہے۔اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب کوئی دُعا کرنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کو جواب دیتا ہوں یہ جواب کبھی رویا صالحہ کے ذریعہ ملتا ہے اور کبھی کشف اور الہام کے واسطے سے اور علاوہ بریں دُعاؤں کے ذریعہ خدا تعالی کی قدرتوں اور طاقتوں کا اظہار ہوتا ہے۔اور معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایسا قادر ہے جب کہ مشکلات کو حل کر دیتا ہے۔غرض دُعا بڑی دولت اور طاقت ہے اور قرآن شریف میں جابجا اس کی ترغیب دی ہے اور ایسے لوگوں کے حالات بھی بتائے ہیں جنہوں نے دعا کے ذریعہ اپنے مشکلات سے نجات پائی۔انبیاء علیہم السلام کی زندگی کی جڑ اور ان کی کامیابیوں کا اصل اور سچا ذریعہ یہی دُعا ہے۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی ایمانی اور عملی طاقت کو بڑھانے