تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 316
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٦ سورة البقرة ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں جو شخص مجھ پر ایمان لا کر مجھے پکارتا ہے تو میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ہر ایک چیز کی گن میرے ہاتھ میں ہے اور میراعلم سب پر محیط ہے۔میں ہی ہوں جو زمین و آسمان کو اٹھا رہا ہوں۔میں ہی ہوں جو تمہیں خشکی تری میں اُٹھا رہا ہوں۔نیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۵۴) یعنی اگر میرے بندے میرے وجود سے سوال کریں کہ کیوں کر اس کی ہستی ثابت ہے اور کیوں کر سمجھا جائے کہ خدا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ میں بہت ہی نزدیک ہوں۔میں اپنے پکارنے والے کو جواب دیتا ہوں۔اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اُس کی آواز سنتا ہوں۔اور اُس سے ہم کلام ہوتا ہوں۔پس چاہئے کہ اپنے تئیں ایسے بناویں کہ میں اُن سے ہم کلام ہوسکوں۔اور مجھ پر کامل ایمان لاویں تا اُن کو میری لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۱۵۹) راہ ملے۔ہے۔چاہئے کہ میرے حکموں کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لاویں تاکہ ان کا بھلا ہو۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۱۵) قرآن شریف نے جو کہا ہے : أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ دُعا کا جواب ملتا الحکم جلد ۶ نمبر ۳۶ مورخه ۱/۱۰اکتوبر ۱۹۰۲ ء صفحه ۱۲) أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی میں تو بہ کرنے والے کی تو بہ قبول کرتا ہوں خدا تعالی کا یہ وعدہ اُس اقرار کو جائز قرار دیتا ہے جو کہ بچے دل سے تو بہ کرنے والا کرتا ہے اگر خدا تعالی کی طرف سے اس قسم کا اقرار نہ ہوتا تو پھر تو بہ کا منظور ہونا ایک مشکل امر تھا۔بچے دل سے جو اقرار کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ پھر خدا تعالیٰ بھی اپنے تمام وعدے پورے کرتا ہے جو اُس نے تو بہ کرنے والوں کے ساتھ کئے ہیں۔اور اسی وقت سے ایک نور کی تجلی اس کے دل میں شروع ہو جاتی ہے جب انسان یہ اقرار کرتا ہے کہ میں تمام گناہوں سے بچوں گا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا۔(البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۲۴ را پریل ۱۹۰۳ صفحه ۱۰۷) وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّى فَانی قریب کے یہی معنے ہیں کہ اگر سوال ہو کہ خدا کا علم کیوں کر ہوا۔تو جواب یہ ہے کہ اسلام کا خدا بہت قریب ہے۔اگر کوئی اُسے سچے دل سے بلاتا ہے۔تو وہ جواب دیتا ہے۔دوسرے فرقوں کے خدا قریب نہیں ہیں بلکہ اس قدر دور ہیں کہ اُن کا پتہ ہی ندارد۔اعلیٰ سے اعلیٰ غرض عابد اور پرستار کی یہی ہے کہ اس کا قرب حاصل ہو اور یہی ذریعہ ہے۔جس سے اس کی ہستی پر یقین حاصل ہوتا ہے۔أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ کے بھی یہی معنے ہیں کہ وہ جواب دیتا ہے گونگا نہیں ہے۔دوسرے تمام دلائل