تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 302

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠٢ سورة البقرة بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتب وَالنَّبِينَ وَأَتَى الْمَالَ عَلَى حُبّهِ ذَوِى الْقُرْبى وَالْيَتَى وَالْمَسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ وَالسَّابِلِينَ وَ فِي الرِّقَابِ وَ ج أَقَامَ الصَّلوةَ وَأَتَى الزَّلوةَ وَالْمُوفُونَ بِعَهْدِهِمْ إِذَا عَهَدُوا ۚ وَالصُّبِرِينَ فِي وو الْبَاسَاءِ وَالضَّرَّاءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ أُولَبِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا وَ أُولَبِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ سچے نیکوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ خدا کی رضا جوئی کے لئے اپنے قریبیوں کو اپنے مال سے مدد کرتے ہیں اور نیز اس مال میں سے یتیموں کے تعہد اور ان کی پرورش اور تعلیم وغیرہ میں خرچ کرتے رہتے ہیں اور مسکینوں کو فقر و فاقہ سے بچاتے ہیں اور مسافروں اور سوالیوں کی خدمت کرتے ہیں اور ان مالوں کو غلاموں کے آزاد کرانے کے لئے اور قرض داروں کو سبکدوش کرنے کے لئے بھی دیتے ہیں۔،، اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۷) وَاللهُ أَدْخَلَ وُجُودَ الْمَلَائِكَةِ في اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کے وجود کو ایمانیات میں شامل کیا ہے الْإِيمَانِيَاتِ كَمَا أَدْخَلَ فِيْهَا نَفْسَه ٹھیک اسی طرح جس طرح اس نے اپنے آپ کو شامل کیا وَقَالَ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللهِ وَالْيَوْمِ ہے۔اور فرمایا ہے : وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتب وَالنَّبِيَّنَ، وَقَالَ الْآخِرِ وَالْمَلَكَةِ وَالْكِتَبِ وَالنَّبِينَ اور فرمایا ہے : وَمَا وَ مَا يَعْلَمُ جُنُودَ رَبَّكَ إِلَّا هُوَ فَبَيَّنَ يَعْلَمُ جُنُودَ رَبِّكَ إِلَّا هُوَ *۔پس اس طرح اللہ تعالیٰ لِلنَّاسِ أَنّ حَقِيقَةَ الْمَلَائِكَةِ وَحَقِيقَةٌ نے لوگوں کو کھول کر بتا دیا کہ ملائکہ اور ان کی صفات کی صِفَاتِهِمْ مُتَعَالِيَةٌ عَنْ طَوْرِ الْعَقْلِ وَ لا حقیقت عقل سے بالا تر ہے جسے اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی يَعْلَمُهَا أَحَدٌ إِلَّا اللهُ فَلا تَضْرِبُوا الله نہیں جانتا اس لئے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتوں کے وَلَا لِمَلَائِكَتِهِ الْأَمْثَالَ وَأَتُوهُ مُسْلِمِينَ متعلق اپنے پاس سے باتیں نہ بنایا کرو اور اس کے حضور - (حمامۃ البشری ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۷۲ میں فرمانبردار بن کر حاضر ہو۔( ترجمہ از مرتب ) وَالصُّبِرِينَ فِي الْبَأْسَاءِ وَالضَّرَّاء وَحِيْنَ الْباس بہادر وہ ہیں کہ جب لڑائی کا موقعہ آ پڑے یا ان پر کوئی مصیبت آ پڑے تو بھاگتے نہیں۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۹) (المدثر :۳۲ ) یعنی تیرے رب کے لشکروں کو سوائے اس کے کوئی نہیں جانتا۔