تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 301

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣٠١ سورة البقرة موجود ہیں مگر خدا جو وراء الوراء اسرار ظاہر کرتا ہے اور عمیق اور پوشیدہ باتوں کی خبر دیتا ہے اُس نے ان دونوں قوتوں کو مخلوق قرار دیا ہے، جو نیکی کا القاء کرتا ہے اُس کا نام فرشتہ اور روح القدس رکھا ہے اور جو بدی کا القاء کرتا ہے اُس کا نام شیطان اور ابلیس قرار دیا ہے مگر قدیم عقلمندوں اور فلاسفروں نے مان لیا ہے کہ القاء کا مسئلہ بیہودہ اور لغو نہیں ہے۔بے شک انسان کے دل میں دو قسم کے القاء ہوتے ہیں۔نیکی کا الفاء اور بدی کا القاء۔اب ظاہر ہے کہ یہ دونوں القاء انسان کی پیدائش کا جزو نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ باہم متضاد ہیں اور نیز انسان اُن پر اختیار نہیں رکھتا اس لئے ثابت ہوتا ہے کہ یہ دونوں القاء باہر سے آتے ہیں اور انسان کی تکمیل اُن پر موقوف ہے اور عجیب بات یہ ہے کہ ان دونوں قسم کے وجود یعنی فرشتہ اور شیطان کو ہندوؤں کی کتابیں بھی مانتی ہیں اور گیر بھی اس کے قائل ہیں بلکہ جس قدر خدا کی طرف سے دُنیا میں کتا بیں آئی ہیں سب میں ان دونوں وجودوں کا اقرار ہے۔پھر اعتراض کرنامحض جہالت اور تعصب ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۹۳، ۲۹۴) إنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللهِ ۱۷۴ فَمَنِ اضْطُرَ غَيْرَ بَاغِ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ۔شریعت کی بنا نرمی پر ہے تختی پر نہیں ہے اصل بات یہ ہے کہ وَمَا أُهِنَّ بِهِ لِغَيْرِ اللہ سے یہ مراد ہے کہ جوان مندروں اور تھانوں پر ذبح کیا جاوے یا غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا جاوے اس کا کھانا تو جائز نہیں ہے لیکن جو جانور بیع و شرا میں آجاتے ہیں اس کی حلت ہی سمجھی جاتی ہے۔زیادہ تفتیش کی کیا ضرورت ہوتی ہے دیکھو حلوائی وغیرہ بعض اوقات ایسی حرکات کرتے ہیں کہ اُن کا ذکر بھی کراہت اور نفرت پیدا کرتا ہے لیکن ان کی بنی ہوئی چیزیں آخر کھاتے ہی ہیں۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ شیر بینیاں تیار کرتے ہیں اور میلی کچیلی دھوتی میں بھی ہاتھ مارتے جاتے ہیں اور جب کھانڈ تیار کرتے ہیں تو اُس کو پاؤں سے ملتے ہیں چوڑھے چمارگر وغیرہ بناتے ہیں اور بعض اوقات جھوٹھے رس وغیرہ ڈال دیتے ہیں اور خدا جانے کیا کیا کرتے ہیں ان سب کو استعمال کیا جاتا ہے اس طرح پر اگر تشدد ہو تو سب حرام ہو جاویں۔اسلام نے مالا يطاق تکلیف نہیں رکھی ہے بلکہ شریعت کی بنا نرمی پر ہے۔الحکم جلد ۷ نمبر ۲۹ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۳ء صفحه ۲۰) جو شخص باغی نہ ہو اور نہ حد سے بڑھنے والا۔تو اس پر کوئی گناہ نہیں اللہ غفور رحیم ہے۔( بدر جلد نمبر ۵ مورخه ۶ فروری ۱۹۰۸ ء صفحه ۶) لَيْسَ الْبِرَّ أَنْ تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنْ آمَنَ