تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 296

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۶ سورة البقرة رہے اور یہ ایک مخفی شرک تھا اس لئے کامل کتاب یعنی قرآن شریف نے اس طرح کی بول چال کو جائز نہیں رکھا۔یہودیوں میں جو ناقص حالت میں تھے جائز تھا اور انہیں کی تقلید سے یسوع نے اپنی باتوں میں بیان کر دیا چنانچہ انجیل کے اکثر مقامات میں اسی قسم کے اشارے پائے جاتے ہیں کہ خدا کی طرح رحم کر وخدا کی طرح صلح کار بنو خدا کی طرح دشمنوں سے بھی ایسی ہی بھلائی کرو جیسا کہ دوستوں سے تب تم خدا کے فرزند کہلاؤ گے کیونکہ اس کے کام سے تمہارا کام مشابہ ہوگا۔صرف اتنا فرق رہا کہ وہ بڑا بمنزلہ باپ خدا اور تم چھوٹے بمنزلہ بیٹے کے ٹھہرے سو یہ تعلیم در حقیقت یہودیوں کی کتابوں سے لی گئی تھی۔اسی لئے یہودیوں کا اب تک لی یہ اعتراض ہے کہ یہ چوری اور سرقہ ہے بائیل سے چرا کر یہ باتیں انجیل میں لکھ دیں۔بہر حال یہ تعلیم ایک تو ناقص ہے اور دوسرے اس طرح کا بیٹا محبت ذاتی سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔(۲) دوسری قسم کے بیٹے کا انجیل میں ایک بے ہودہ بیان ہے جیسا کہ یوحنا باب ۱۰ آیت ۳۴ میں ہے یعنی اس درس میں بیٹا تو ایک طرف ہریک کو خواہ کیسا ہی بدمعاش ہو خدا بنا دیا ہے اور دلیل یہ پیش کی ہے کہ نوشتوں کا باطل ہونا ممکن نہیں۔غرض انجیل نے شخصی تقلید سے اپنی قوم کا ایک مشہور لفظ لے لیا علاوہ اس کے یہ بات خود غلط ہے کہ خدا کو باپ قرار دیا جاوے اور اس سے زیادہ تر نادان اور بے ادب کون ہوگا کہ باپ کا لفظ خدا تعالیٰ پر اطلاق کرے۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۳۰ تا ۴۴۳) محبت کا انتہا عبادت ہے اس لئے محبت کا لفظ حقیقی طور پر خدا سے خاص ہے۔اور نوع انسان کے لئے بجائے محبت کے خدا کے کلام میں رحم اور احسان کا لفظ آیا ہے کیونکہ کمال محبت پرستش کو چاہتا ہے اور کمال رحم ہمدردی کو چاہتا ہے۔اس فرق کو غیر قوموں نے نہیں سمجھا اور خدا کا حق غیروں کو دیا۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۹) خدا کی محبت انسان کی محبت کی طرح نہیں جس میں یہ داخل ہے کہ جدائی سے درد اور تکلیف ہو بلکہ خدا کی محبت سے مراد یہ ہے کہ وہ نیکی کرنے والوں کے ساتھ ایسا پیش آتا ہے جیسا کہ محبت پیش آتا ہے۔( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۸ حاشیه ) محبت کا لفظ جہاں کہیں با ہم انسانوں کی نسبت آیا بھی ہو اس سے در حقیقت حقیقی محبت مراد نہیں ہے بلکہ اسلامی تعلیم کی رو سے حقیقی محبت صرف خدا سے خاص ہے اور دوسری محبتیں غیر حقیقی اور مجازی طور پر ہیں۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۹ حاشیه ) پھر بعد اس کے لفظ اسلام کا مفہوم بھی محبت پر ہی دلالت کرتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کے آگے اپنا سر رکھ دینا