تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 295
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۵ سورة البقرة نصاری اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی کر سکتا ہے۔احسان کر سکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں کر سکتا یہ ایک بار یک فرق ہے اس کو خوب یا درکھو۔پھر آپ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ مسلمان لوگ خدا کے ساتھ بھی بلا غرض محبت نہیں کرتے ان کو یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ خدا اپنی خوبیوں کی وجہ سے محبت کے لائق ہے۔اما الجواب : پس واضح ہو کہ یہ اعتراض در حقیقت انجیل پر وارد ہوتا ہے نہ قرآن پر کیونکہ انجیل میں یہ تعلیم ہرگز موجود نہیں کہ خدا سے محبت ذاتی رکھنی چاہئے اور محبت ذاتی سے اس کی عبادت کرنی چاہئے مگر قرآن تو اس تعلیم سے بھرا پڑا ہے قرآن نے صاف فرما دیا ہے: فَاذْكُرُوا اللهَ كَذِكرِكُمْ آبَاءَكُمْ أوْ أَشَدَّ ذِكْرًا (البقرة:٢٠١) وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِله یعنی خدا کو ایسا یاد کرو۔جیسا کہ اپنے باپوں کو بلکہ اس سے بہت زیادہ۔اور مومنوں کی یہی شان ہے کہ وہ سب سے بڑھ کر خدا سے محبت رکھتے ہیں یعنی ایسی محبت نہ وہ اپنے باپ سے کریں اور نہ اپنی ماں سے اور نہ اپنے دوسرے پیاروں سے اور نہ اپنی جان سے اور پھر فرمایا: حَبَّبَ اِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَ زَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمُ (الحجرات :) یعنی خدا نے تمہارا محبوب ایمان کو بنادیا اور اس کو تمہارے دلوں میں آراستہ کر دیا۔۔۔۔۔۔اب سوچنا چاہئے کہ ان تمام آیات سے کس قدر صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قرآن شریف نے اعلیٰ طبقہ عبادت الہی اور اعمال صالحہ کا یہی رکھا ہے کہ محبت الہی اور رضاء الہی کی طلب سچے دل سے ظہور میں آوے مگر اس جگہ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عمدہ تعلیم جو نہایت صفائی سے بیان کی گئی ہے انجیل میں بھی موجود ہے؟ ہم ہر یک کو یقین دلاتے ہیں کہ اس صفائی اور تفصیل سے انجیل نے ہرگز بیان نہیں کیا۔۔۔۔اگر کہو کہ انجیل نے یہ سکھلا کر کہ خدا کو باپ کہو محبت ذاتی کی طرف اشارہ کیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ خیال سراسر غلط ہے کیونکہ انجیلوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح نے خدا کے بیٹے کا لفظ دو طور سے استعمال کیا ہے (۱) اول تو یہ کہ مسیح کے وقت میں یہ قدیم رسم تھی کہ جو شخص رقم اور نیکی کے کام کرتا اور لوگوں سے مروت اور احسان سے پیش آتا تو وہ واشگاف کہتا کہ میں خدا کا بیٹا ہوں اور اس لفظ سے اس کی یہ نیت ہوتی تھی کہ جیسے خدا نیکوں اور بدوں دونوں پر رحم کرتا ہے اور اس کے آفتاب اور ماہتاب اور بارش سے تمام برے بھلے فائدہ اٹھاتے ہیں ایسا ہی عام طور پر نیکی کرنا میری عادت ہے لیکن فرق اس قدر ہے کہ خدا تو ان کاموں میں بڑا ہے اور میں چھوٹا ہوں۔سوانجیل نے بھی اس لحاظ سے خدا کو باپ ٹھہرایا کہ وہ بڑا ہے اور دوسروں کو بیٹا ٹھہرایا یہ نیت کر کے کہ وہ چھوٹے ہیں مگر اصل امر میں خدا سے مساوی کیا یعنی کمیت میں کمی بیشی کو مان لیا مگر کیفیت میں باپ بیٹا ایک