تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 277
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ سورة البقرة اپنے بدن کو مجروح اور خستہ کرنا پڑتا ہے عام طبائع بہت کم اس پر قادر ہوتی ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ تکلیف جھیلیں لیکن قضاء وقدر کی طرف سے جو واقعات اور حادثات انسان پر آ کر پڑتے ہیں وہ نا گہانی ہوتے ہیں اور جب آپڑتے ہیں تو قہر درویش بر جان درویش ان کو برداشت کرنا ہی پڑتا ہے جو کہ اس کے تزکیہ نفس کا باعث ہو جاتا ہے جیسے شہداء کو دیکھو کہ جنگ کے بیچ میں لڑتے لڑتے جب مارے جاتے ہیں تو خدا کے نزدیک کس قدر اجر کے مستحق ہوتے ہیں۔یہ درجات قرب ہی اُن کو قضاء قدر سے ہی ملتے ہیں ورنہ اگر تنہائی میں ان کو اپنی گردنیں کاٹنی پڑیں تو شاید بہت تھوڑے ایسے نکلیں جو شہید ہوں۔اسی لئے اللہ تعالیٰ غرباء کو بشارت دیتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْاَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَ بَشِّرِ الصّبِرِينَ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ۔اس کا یہی مطلب ہے کہ قضاء وقدر کی طرف سے ان کو ہر ایک قسم کے نقصان پہنچتے ہیں۔اور پھر وہ جوصبر کرتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کی عنائتیں اور رحمتیں اُن کے شامل حال ہوتی ہیں۔کیونکہ تلخ زندگی کا حصہ ان کو بہت ملتا ہے۔لیکن امراء کو یہ کہاں نصیب۔البدر جلد ۳ نمبر ۳۱ مورخه ۱۶ / اگست ۱۹۰۴ صفحه ۴،۳) بہت سے لوگ اس امر سے غافل ہیں کہ انسان پر جو بلائیں آتی ہیں بے وجہ یونہی آجاتی ہیں یا اُن کے نزول کو انسان کے اعمال سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایسا خیال بالکل غلط ہے۔یہ خوب یاد رکھو کہ ہر بلا جو اس زندگی میں آتی ہے یا جو مرنے کے بعد آئے گی جس کا ہمیں یقین ہے اس کی اصل جڑا گناہ ہی ہے کیونکہ گناہ کی حالت میں انسان اپنے آپ کو ان انوار اور فیوض سے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں پرے ہٹا دیتا ہے اور اس اصل مرکز سے جو حقیقی راحت کا مرکز ہے ہٹ جاتا ہے اس لئے تکلیف کا آنا اس حالت میں اس پر ضروری ہے۔یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ انبیاء اور راست بازوں پر بھی بعض اوقات بلائیں آجاتی ہیں اور بھی مصائب اور شدائد میں ڈالے جاتے ہیں لیکن یہ گمان کرنا کہ وہ مصائب اور بلائیں کسی گناہ کی وجہ سے آتی ہیں خطرناک غلطی اور گناہ ہے۔اُن بلاؤں میں جو خدا کے راست بازوں اور پیارے بندوں پر آتی ہیں اور اُن بلاؤں میں جو خدا ستائی کے نافرمانوں اور خطا کاروں پر آتی ہیں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اس لئے کہ ان کے اسباب بھی مختلف ہیں۔نبیوں اور راست بازوں پر جو بلائیں آتی ہیں ان میں ان کو ایک صبر جمیل دیا جاتا ہے جس سے وہ بلا اور