تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 265
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۵ سورة البقرة فرماتا ہے: ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور کبھی وہ مومن سے اپنی باتیں منوانی چاہتا ہے چنانچہ فرماتا ہے: ولنبلونكم يشى و من الخوف الخ۔پس اس بات کا سمجھنا ایمانداری ہے کہ ایک طرف زور نہ دے۔مومن کو مصیبت کے وقت میں غمگین نہیں ہونا چاہئے وہ نبی سے بڑھ کر نہیں ہوتا۔اصل بات یہ ہے کہ مصیبت کے وقت ایک محبت کا سرچشمہ جاری ہو جاتا ہے مومن کو کوئی مصیبت نہیں ہوتی جس سے اس کو ہزارہا قسم لذت نہیں پہنچتی۔بلکہ مومن کو آرام کی زندگی میں ایسی لذت نہیں ہوتی جیسا کہ مصیبت کے زمانے میں ان کو لذت پہنچتی ہے۔خدا کے لوگوں کو یہ ایک مرض ہوتی ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کو خدا سے مار پڑتی رہے۔خدا تعالی کے پیاروں کو گناہ سے مصائب نہیں پہنچتے۔دیکھو جب تک لڑکی اپنے والدین کے گھر میں ہوتی ہے والدین اُسے بہت پیار کرتے ہیں اور نکاح کے وقت اگر چہ والدین کو بہت تکلیف ہوتی ہے حتی کہ والدہ ایک طرف روتی ہے اور والد ایک طرف روتا ہے تاہم وہ سب تکالیف برداشت کر کے اس کو ہمیشہ کے لئے الگ کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے۔وہ جانتے (ہیں) کہ اس لڑکی میں ایک جو ہر ہے جو کہ سسرال میں جا کر ظاہر ہوگا اس لئے مومن کے جو ہر بھی مصائب سے کھلتے ہیں چنانچہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دکھوں اور نصرت کے زمانہ پر آپ کے اخلاق کو کس طرح ظاہر کیا اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تکالیف نہ پہنچتے تو اب ہم ان کے اخلاق کے متعلق کیا بیان کرتے۔مومن کی تکالیف کو دوسرے بیشک تکالیف سمجھتے ہیں۔مگر مومن اس کو تکالیف نہیں خیال کرتا۔غرض یہ ضروری بات ہے کہ خدا تعالیٰ اپنے مقرب کو دوسروں کی نسبت زیادہ دکھ پہنچائے مومن کو ہر روز مرنا پڑتا ہے اور یہ ضروری بات ہے کہ انسان اپنی کچی تو بہ پر قائم رہے اور یہ سمجھے کہ تو بہ سے ان کو ایک نئی زندگی ملتی ہے اور اگر تو بہ کے ثمرات چاہتے ہو تو عمل کے ساتھ تو بہ کی تکمیل کرو۔دیکھو جب مالی بوٹا لگاتا ہے پھر اس کو پانی دیتا ہے اور اس سے اس کی تکمیل کرتا ہے اسی طرح ایمان ایک بوٹا ہے اور اس کی آبپاشی عمل سے ہوتی ہے اس لئے ایمان کی تکمیل کے لئے عمل کی از حد ضرورت ہے اگر ایمان کے ساتھ عمل نہیں ہوں گے تو بوٹے خشک ہو جائیں گے اور وہ خائب و خاسر رہ جائیں گے۔(البدر جلد ۲ نمبر ۹ مورخه ۲۰ / مارچ ۱۹۰۳ صفحه ۶۷) تم مومن ہونے کی حالت میں ابتلا کو بُرا نہ جانو اور برا وہی جانے گا جو مومن کامل نہیں ہے۔قرآن شریف فرماتا ہے کہ وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشر الصُّبِرِينَ فى الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم