تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 264
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۴ سورة البقرة (حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۲۱) رب اور عہد کا کیا با ہمی تعلق ہے۔قضا و قدر کا دُعا کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے۔دُعا کے ساتھ معلق تقدیر ٹل جاتی ہے۔جب مشکلات پیدا ہوتے ہیں تو دُعا ضرور اثر کرتی ہے جو لوگ دُعا سے منکر ہیں ان کو ایک دھوکا لگا ہوا ہے قرآن شریف نے دُعا کے دو پہلو بیان کئے ہیں ایک پہلو میں اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا بے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔نونِ ثقیلہ کے ذریعہ سے جو اظہار تاکید کیا ہے۔اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ قضائے مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج قالوا انا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ ہی ہے۔اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن :(۶) میں ظاہر کیا ہے۔پس مومن کو ان دونوں مقامات کا پورا علم ہونا چاہئے۔الحکم جلد ۶ نمبر ۸ مورخه ۲۸ فروری ۱۹۰۲ صفحه ۴) مصیبتوں کو بُرا نہیں ماننا چاہئے کیونکہ مصیبتوں کو برا سمجھنے والا مومن نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصُّبِرِينَ ) الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔یہی تکالیف جب رسولوں پر آتی ہیں تو ان کو انعام کی خوشخبری دیتی ہیں اور جب یہی تکالیف بدوں پر آتی ہیں۔ان کو تباہ کر دیتی ہیں غرض مصیبت کے وقت قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھنا چاہئے کہ تکالیف کے وقت خدا تعالیٰ کی رضا طلب کرے۔مومن کی زندگی کے دو حصہ جو نیک کام مومن کرتا ہے اس کے لئے اجر مقرر ہوتا ہے مگر صبر ایک ایسی چیز ہے جس کا ثواب بے حد و بے شمار ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے یہی لوگ صابر ہیں۔یہی لوگ ہیں جنہوں نے خدا کو سمجھ لیا۔خدا تعالیٰ ان لوگوں کی زندگی کے دو حصہ کرتا ہے جو صبر کے معنے سمجھ لیتے ہیں۔اول جب وہ دُعا کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اُسے قبول کرتا ہے جیسا کہ فرمایا أَدْعُوْنِ اسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن: ٢١) أَجِيبُ دَعْوَةَ اللَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: ) دوم۔بعض دفعہ اللہ تعالیٰ مومن کی دُعا کو بعض مصلحت کی وجہ سے قبول نہیں کرتا تو اُس وقت مومن خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے سر تسلیم خم کر دیتا ہے۔تنزل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن سے دوست کا واسطہ رکھتا ہے جیسا کہ دو دوست ہوں ان میں سے ایک دوسرے کی بات تو کبھی مانتا ہے اور کبھی اس سے منواتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے اس تعلق کی مثال ہے جو وہ مومن سے رکھتا ہے کبھی وہ مومن کی دُعا کو قبول کرتا ہے جیسا کہ