تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 256
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۶ سورة البقرة آخر تک قرآن شریف کو پڑھو تو یہ عام محاورہ اُس میں پاؤ گے کہ وہ اکثر مقامات میں جماعت کو فرد واحد کی صورت میں مخاطب کرتا ہے مثلاً نمونہ کے طور پر ان آیات کو دیکھو۔لَا تَجْعَلُ مَعَ اللَّهِ إِلَهَا أَخَرَ فَتَقْعُد 19911 مَنْ مُومًا مَخْذُولًا وَ قَضَى رَبُّكَ اَلَا تَعْبُدُوا إِلَّا إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ احدُهُمَا أَوْ كِلَهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَا أفْ وَلَا تَنْهَرُهُمَا وَقُلْ لَهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِ مِنَ الرّحْمَةِ وَقُلْ رَبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيْنِي صَغِيران (بنی اسرائیل : ۲۳ تا ۲۵) یعنی خدائے تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا خدامت ٹھہرا اگر تو نے ایسا کیا تو مذموم اور مخذول ہو کر بیٹھے گا۔اور تیرے خدا نے یہی چاہا ہے کہ تم اس کی بندگی کرو اس کے سوا کوئی اور دوسرا تمہارا معبود نہ ہو اور ماں باپ سے احسان کر اگر وہ دونوں یا ایک اُن میں سے تیرے سامنے بڑی عمر تک پہنچ جائیں تو تو اُن کو اُف نہ کہہ اور نہ اُن کو جھڑک بلکہ اُن سے ایسی باتیں کہہ کہ جن میں اُن کی بزرگی اور عظمت پائی جائے اور تذلیل اور رحمت سے ان کے سامنے اپنا بازو جھکا اور دعا کر کہ اے میرے رب ! تو ان پر رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن کے زمانے میں میری پرورش کی۔اب دیکھو کہ ان آیات میں یہ ہدایت ظاہر ہے کہ یہ واحد کا خطاب جماعت امت کی طرف ہے جن کو بعض دفعہ انہیں آیتوں میں تم کر کے بھی پکارا گیا ہے۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان آیات میں مخاطب نہیں کیونکہ ان آیتوں میں والدین کی تعظیم و تکریم اور اُن کی نسبت بڑ و احسان کا حکم ہے اور ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے والدین تو صغیرسنی کے زمانے میں بلکہ جناب مدوح کی شیر خوارگی کے وقت میں ہی فوت ہو چکے تھے سو اس جگہ سے اور نیز ایسے اور مقامات سے بوضاحت ثابت ہوتا ہے کہ جماعت کو واحد کے طور پر مخاطب کر کے پکارنا یہ قرآن شریف کا ایک عام محاورہ ہے کہ جو ابتدا سے آخر تک جابجا ثابت ہوتا چلا جاتا ہے یہی محاورہ توریت کے احکام میں بھی پایا جاتا ہے کہ واحد مخاطب کے لفظ سے کم صادر کیا جاتا ہے اور مراد بنی اسرائیل کی جماعت ہوتی ہے جیسا کہ خروج باب ۳۳ و ۳۴ میں بظاہر حضرت موسیٰ کو مخاطب کر کے فرمایا ہے۔(۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یادرکھیو۔(۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہووے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھے (۱۷) تو اپنے لئے ڈھائے ہوئے معبودوں کو مت بنائیو۔