تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 255 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 255

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۵ سورة البقرة کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی مقرر شدہ بات ہے جس کو خدائے تعالیٰ نے اپنے پہلے نبیوں کے ذریعہ سے پہلے ہی سے بتلا رکھا تھا اس میں شک مت کرو۔دوسری آیت جو معترض نے بتائید دعویٰ خود تحریر کی ہے۔وہ سورہ انعام کی ایک آیت ہے جو معہ اپنی آیات متعلقہ کے اس طرح پر ہے: افغيْرَ اللهِ ابْتَغِى حَكَما وَ هُوَ الَّذِى أنزل إليكم الكتب مُفَضَلا و الَّذِيْنَ أتَيْنَهُمُ الْكِتَبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزِّلُ مِن رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ (الأنعام : ۱۱۵) یعنی کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حکم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے علم قرآن سمجھایا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے، سوائے پڑھنے والے ! تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔اب ان آیات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اس آیت کے جو فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ ہے ایسے لوگ ہیں جو ہنوز یقین اور ایمان اور علم سے کم حصہ رکھتے ہیں بلکہ اوپر کی آیتوں سے بھی کھلتا ہے کہ اس جگہ یہ حکم فلا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُسْتَرِینَ کا پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے جس کا قرآن شریف میں ذکر کیا گیا ہے کیونکہ شروع کی آیت میں جس سے یہ آیت تعلق رکھتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی قول ہے یعنی یہ کہ افغیر اللهِ ابْتَغِي حَكَما سو ان تمام آیات کا با محاورہ ترجمہ یہ ہے کہ میں بجز خدائے تعالیٰ کے کوئی اور حکم جو مجھ میں اور تم میں فیصلہ کرے مقرر نہیں کر سکتا وہ وہی ہے جس نے تم پر مفصل کتاب نازل کی سوجن کو اس کتاب کا علم دیا گیا ہے وہ اس کا منجانب اللہ ہونا خوب جانتے ہیں سوتو (اے پیغبر آدمی ) شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔اب تحقیق سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود شک نہیں کرتے بلکہ شک کرنے والوں کو بحوالہ شواہد و دلائل منع فرماتے ہیں پس با وجود ایسے کھلے کھلے بیان کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف شک فی الرسالت کو منسوب کرنا بیخبری و بے علمی یا محض تعصب نہیں تو کیا ہے۔پھر اگر کسی کے دل میں یہ خیال پیدا ہو کہ اگر شک کرنے سے بعض ایسے نو مسلم یا متر و منع کئے گئے تھے جو ضعیف الایمان تھے تو اُن کو یوں کہنا چاہئے تھا کہ تم شک مت کرو، نہ یہ کہ تو شک مت کر! کیونکہ ضعیف الایمان آدمی صرف ایک ہی نہیں ہوتا بلکہ کئی ہوتے ہیں بجائے جمع کے واحد مخاطب کا صیغہ کیوں استعمال کیا گیا۔اس کا جواب یہ ہے کہ اس وحدت سے وحدت جنسی مراد ہے جو جماعت کا حکم رکھتی ہے اگر تم اول سے