تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 218 of 481

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۲) — Page 218

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ جاتے ہیں یا جو جو کام خاص طور پر انہیں سپر د ہو رہا ہے اسی کی تشریح رسالہ توضیح مرام میں ہے۔سورة البقرة (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۰) بالآخر ہم چند اقوال پر اس مضمون کو ختم کرتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ سلف صالح کا ہرگز یہ عقیدہ نہ تھا کہ روح القدس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر خاص خاص وقتوں پر نازل ہوتا تھا اور دوسرے اوقات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اُس سے نعوذ باللہ بکلی محروم ہوتے تھے از انجملہ وہ قول ہے جو شیخ عبدالحق رب محدث دہلوی نے اپنی کتاب مدارج النبوۃ کے صفحہ ۴۲ میں لکھا ہے جس کا ماحصل یہ ہے کہ ملائک وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دائی رفیق اور قرین ہیں چنانچہ وہ جامع الاصول اور کتاب الوفا سے نقل کرتے ہیں کہ ابتدائے نبوت سے تین برس برابر حضرت اسرافیل ملازم صحبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رہے اور پھر حضرت جبرائیل دائگی رفاقت کے لئے آئے اور بعد اس کے صاحب سفر السعادت سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سات سال کے تھے جب حضرت اسرافیل کو اللہ جل شانہ کی طرف سے حکم ہوا کہ آنحضرت صلعم کے ملازم خدمت رہیں پس اسرافیل ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلعم کے پاس رہتا تھا اور آنحضرت صلعم کی عمر کا گیارھواں سال پورا ہونے تک یہی حال تھا مگر اسرافیل بجز کلمہ دوکلمہ کے اور کوئی بات وحی کے طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں نہیں ڈالتا تھا ایسا ہی میکائیل بھی آنحضرت کا قرین رہا۔پھر بعد اس کے حضرت جبرائیل کو حکم ہوا اور وہ پورے انتیس سال قبل از وحی ہر وقت قرین اور مصاحب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تھے پھر بعد اس کے وحی نبوت شروع ہوئی۔اس بیان سے ہر یک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ جن بزرگوں نے مثلاً حضرت جبرائیل کی نسبت لکھا ہے کہ وہ نبوت سے پہلے بھی انتیس سال تک ہمیشہ اور ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دائگی رفیق تھا اُن کا ہرگز یہ عقیدہ نہیں ہو سکتا تھا کہ جبرائیل کسی وقت آسمان پر بھی چلا جاتا تھا کیونکہ کسی وقت چھوڑ کر چلا جانا دوام قرب اور معیت غیر منقطع کے منافی ہے لیکن جب ان بزرگوں کا دوسرا عقیدہ بھی دیکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا قرار گاہ آسمان ہی ہے اور وہ ہر ایک وحی آسمان سے ہی لاتا ہے تو ان دونوں عقیدوں کے ملانے سے جو تناقض پیدا ہوتا ہے اس سے رہائی پانے کے لئے بجز اس کے اور کوئی راہ نہیں مل سکتی کہ یہ اعتقاد رکھا جائے کہ جبرائیل علیہ السلام کا آسمان سے اتر نا حقیقی طور پر نہیں بلکہ ملی ہے اور جب تمثلی طور پر اتر نا ہو تو اس میں کچھ حرج نہیں کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے تمشکلی وجود سے ہمیشہ اور ہر وقت اور ہر دم اور ہر طرفہ العین انبیا علیہم السلام